محاسبہ

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )

ہم ہکا بکا بیھٹے رہ گئے ۔ ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ حسینہ خالد صاحب کی منظورِ نظر نکلے گی ۔ اور ستم یہ تھا کہ خالد صاحب اپنے عشق کی آگ میں یکطرفہ جل رہے تھے ۔ کیونکہ قرائین و شواہد کہتے تھے کہ موصوفہ خالد صاحب میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس پر خالد صاحب کے دل کی حالت عیاں ہے ۔ سو ایک تضاد تھا ۔ مگر ہم نے فلمی روایت پر عمل کرتے ہوئے دوستی پر اپنے عشق کو قربان کرنا بہتر سمجھا ۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ خالد صاحب اپنے انٹولے جیسی آنکھوں میں آنسو لیئے گلی گلی گاتے پھریں کہ ” دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا ” ۔

اس دن ہم نےاسکول میں بےکیف سا وقت گذارا ۔ اسکول واپسی پر ایک پی سی او سے ہم نے خالد صاحب کو فون کرکے ان کی محبوبہ کی آمد کی خبر سنا دی ۔ دوسری طرف سے ہمیں ایک ہچکی سی سنائی دی ۔ اب پتا نہیں وہ خالد صاحب کی آخری ہچکی تھی یا اس خبر سے ان کی قوتِ گویائی متاثر ہوچکی تھی ۔ خیر ہم نے اپنا فرض پورا کردیا تھا ۔ اس لیئے خاموشی سے ریسور رکھ کر پی سی او سے باہر نکل گئے ۔ مگر سیدھا گھر جانے کے بجائے مرزا کباب والے کی دوکان پر رُک گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ ( ٹینشن میں ہمیں ہمیشہ بھوک لگتی ہے ) ۔ ہم نے مرزا جی سے کباب بنانے کو کہا اور وہاں بینچ پر بیٹھ گئے ۔ مرزا جی نے کباب کو سیخ پر گھماتے ہوئے کہا ” کیا بات ہے حجور ۔۔۔ آج سکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔ ؟”
ہمارے خیمے میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مرزا جی نے اور تیل چھڑک دیا ۔
ہم نے بھنا کر جواب دیا ” مرزا جی ! ماہر نفسیات مت بنو ، کباب بناؤ ”
ارے ارے ۔۔۔۔ آج تو چھوٹے خان صاحب کا مجاج انگاروں کے مافق گرم ہے ۔ خیر تو ہے ۔ ؟ ( والدِ محترم خان‌ صاحب کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ) ۔ ” مرزا جی نے ہاتھ کے پنکھے سے انگاروں کو ہوا جھلتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے مرزا جی ” ۔ تھوڑا توقف کے بعد ہم نےکہا ۔
” نہیں ! حجور کوئی بات ہے جرور ۔۔۔۔۔ ہمیں تو چھوکری وکری کا چکر لگے ہے ۔ ”
ہم کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مرزا جی نے سیخ پر کباب نہیں بلکہ ہمارا دل پرو کر انگاروں میں جھونک دیا ہو۔ ہم انکے قیاس پر حیران رہ گئے ۔
” تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو‌۔ ؟ ہم نے حیران نہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے چھوٹے خان صاحب ۔۔۔۔ آپ کی سکل بتا رہی ہے کہ بڑے بے آبرو ہوکر کسی کے کوچے سے نکلے ہو ۔” مرزا جی نے ہماری کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا ۔
اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ جلدی سے کباب دو اور ۔۔۔ تفتیش کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو پولیس میں نوکری کرلو ۔ اور ہاں ۔۔۔ یہ ساری سیخیں بھی اپنے ساتھ لیتے جانا کہ شاید کسی ملزم سے کچھ اگلوانا پڑجائے ۔ ”
ہم نےجلے بھنے انداز میں ان کے صحیح قیاس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور کباب لیکر دوکان کے سامنے بچھی ہوئی بنچ پر بیٹھ کر چپاتی اور کبابوں سے اپنے ناکام عشق کا بدلہ لینا شروع کردیا ۔ عشق کے معاملے میں ہم ہمیشہ چھپڑ پھاڑ قسمت کے مالک رہے تھے ۔مگر اس بار جس عشق کو ہم حتمی سمجھے تھے وہ نہ صرف اپنے فلمی منطقی انجام کو پہنچا تھا بلکہ ساتھ ساتھ سوئمنامی طوفان کی طرح ہمارے دیگر عشقوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا ۔اور ہم جیسے ، کیلے کے درخت پر لٹکے رہ گئے تھے ۔ جس پر زیادہ دیر تک لٹکنا بھی ممکن نہ تھا ۔

ہم اپنے تمام مرحوم عشقوں کے تجزیئے میں مصروف ہی تھے کہ کسی ہارن کی تیز مسلسل آواز نے ہماری سماعت پر برا اثر ڈالا اور ہم نے انتہائی کوفت کے عالم میں ہارن کی آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک باریش بزرگ موٹر سائیکل پر چلے آرہے تھے ۔ اور انہوں نے ہارن پر اپنی انگلی اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ جیسے وہ وہاں سے آکسجین حاصل کر رہے ہوں ۔ بصورتِ دیگر اس طرح سے ہارن سے بدتمیزی کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ جبکہ سڑک پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ ان صاحب کے عقب میں ہم نے واضع طور پر کسی خاتون کو روایتی انداز میں موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ ہماری تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کوئی خاتون اس زاویئے سے موٹر سائیکل کی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا توازن کیسے قائم رکھتیں ہیں ۔ یہ معمہ حل کرنے کے لیئے ایک دن ہم نے اپنے ایک دیرینہ دوست کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر ہمیں اس طرح بیھٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم اس توازن کی کوئی شرعی اور سائنسی توجہہ کو سمجھ سکیں ۔ ہمارے اس دوست نے کچھ دیر تو ہمیں بڑی عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا ۔ کمبخت پتا نہیں ۔۔۔ کس قسم کے مضر خیالات اور عقائد ہمارے خلاف اپنے ذہن میں برپا کرکے چلا گیا تھا ۔ وہ دن تھا اور آج کا دن ہے ، اس کو پھر کبھی اپنے پاس پھٹکتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ہارن مسلسل بجتا رہا اور موٹر سائیکل ہماری سمت بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے سے گذرنے لگی ۔ ہم نے اپنی توجہ بزرگ سے ہٹا کر خاتون کی طرف مرکوز کی تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ کسی کالج کی یونیفارم میں ملبوس کوئی خاتون ہیں جو شاید اپنے والد کیساتھ موٹر سائیکل پر کہیں جا رہیں تھیں ۔ ہم نے ایک اُچٹتی سی نظر جب اس کے چہرے پر ڈالی تو مرزا جی کا گولہ کباب ہمارے گلے میں پھنستے پھنستے بچا۔ سفید دوپٹے کے حصار میں وہ چہرہ ہمیں Pink Rose کی مانند لگا ۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔ اتنی بڑی اور گہری سیاہ آنکھیں ہم نے پہلے زندگی میں کسی کی نہیں دیکھیں تھیں ۔
یہ سب سیکنڈوں میں ہوا ۔ اور موٹر سائیکل ہمارے سامنے سے گذرگئی ۔ ہم نے تڑپ کر موٹر سائیکل کے تعاقب میں دیکھا تو موصوفہ دوسری طرف منہ کرکے بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔ یعنی اب ان کے چہرے کا صرف سائیڈ ہی دیکھا جا سکتا تھا ۔ اور وہ بھی مکمل طور پر پردے کے احکامات کے تعمیل میں مصروف تھا ۔ اچانک اس نے ہمیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرادی ۔ ہمارے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ گیا ۔ بخدا وہ واقعی بہت بڑی اور روشن آنکھیں تھیں ۔ ہمیں وہ غزل یاد آگئی جس میں جگجیت سنگھ نے ہوش والوں کو بتایا تھا کہ ” بے خودی کیا چیز ہے ” ۔ ہمارے سامنےگویا سونالی باندرے تھی اور ہم عامر خان کی طرح اپنے لزرتے ہوئے جسم پر قابو رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ لمحوں میں یہ قیامت کا سفر ختم ہوگیا ۔ اور موٹر سائیکل ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی ۔

ہم ایک عجیب سے احساس کیساتھ واپس گھر لوٹے ۔ اب جدھر بھی ہم نظر اٹھاتے ۔ وہیں ہمیں وہ دو بڑی بڑی ، کالی سیاہ روشن آنکھیں نظر آتیں ۔ اور ہم پر ایک سرشاری کی کیفیت سوار ہوجاتی ۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے ہمیں ہیروئن کی آنکھیں بھی اسی کی مانند نظر آئیں ۔ مگر جب اس سراب کا اطلاق نثار قادری کے چہرے پر نظر آیا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے اس سراب کے گرداب سے باہر نکل آئے اور سونے کی تیاری میں مشغول ہوگئے ۔

صبح چھٹی تھی ۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم دیر تک سوتے ۔ مگر جس باقاعدگی سے ہم علی الصباح روز اٹھ رہے تھے تو ڈر تھا کہ والد ِ محترم سے کہیں یہ جملہ سننا نہ پڑ جائے کہ ” اب اٹھے ہو ، آج تو دودھ سارا بک گیا ۔ ” سو جی نہ چاہتے ہوئے بھی جلدی اٹھ گئے ۔ ناشتے کے بعد ہمارا ارادہ تھا کہ آج کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کو اپنا شرفِ دیدار بخشیں گے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیئے جونہی ہم نے اپنی موٹر سائیکل گھر سے باہر نکالی تو سامنے والے گھر سے وہی موٹر سائیکل والے بزرگ اپنی موٹر سائیکل باہر نکالتے ہوئے نظر آئے ۔ جن کیساتھ ہم نے سونالی باندرے کو دیکھا تھا ۔ ہمیں بریک سا لگ گیا ۔ اور ہم گوند لگی گولی کی طرح اپنی موٹر سائیکل سے چپک گئے اور موٹر سائیکل کے وہ حصے بھی صاف کرنے لگے ۔ جہاں ہاتھ تو درکنار انگلی بھی نہیں جاتی تھی ۔ ہمیں حیرت تھی کہ جہاں ہم پیدا ہوئے اور جہاں بچپن گذارا اور جہاں سے جوانی کا آغاز کیا ۔ عین اسی محلے میں اس قدر حسن برپا تھا اور ہمیں خبر بھی نہ تھی ۔ اور جانے ہم کہاں کہاں بھٹک رہے تھے ۔ محترم بزرگ نے کسی کو اندر آواز دی اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کرنے لگے ۔ ہم کنکھنیوں سے یہ سارا منظر دیکھنے لگے ۔ بزرگ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہی دوشیزہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں شاید کچھ کاغذات تھے جو وہ ان بزرگوار کو دینے آئی تھی ۔ اس دوران اس کی بھی نظر ہم پر پڑگئی ۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں حیرت کے سائے لہرائے ۔ مگرپھر وہ نارمل ہوگئی ۔ شاید اسے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارا تعلق اسی گھر سے ہے ۔ بزرگ رخصت ہوچکے تھے ( مطلب کہ گھر سے رخصت ہوچکے تھے ) ۔ سو ہم اپنے تمام خواص کیساتھ اس کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ وہ بھی ہمیں نہ دیکھتے ہو ئے بھی دیکھ رہی تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ نمایاں تھی ۔ موصوفہ پہلے دن سے ہی ہم میں دلچسپی لے رہیں تھیں ۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ سب اُس فئیر اینڈ لوَلی کا کمال ہے جو ہم نے ایک دوست کے کہنے پر گذشتہ ماہ سے استعمال کرنا شروع کی تھی ۔ ہم نے بھی جگجیت سنگھ کی غزل کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ” بے خودی ” کے عالم میں موٹر سائیکل صاف کرتے ہوئےاپنا ہاتھ جلتے ہوئے سائلنسر پر بھی رکھ دیا ۔ مگر ہمیں کچھ محسوس نہیں ہوا ۔ تکلیف تب محسوس ہوئی جب فضا میں مرزا کباب والے کے کبابوں سے ملتی جلتی بو ہم نے محسوس کی ۔ پھر جھٹکے کیساتھ ہم نے اپنی ہتیھلی سائلنسر سے اٹھانے کی کوشش کی ۔ مگر ہتیھلی کو گویا وہ در چھوڑنا گوارا نہیں تھا ۔ ہم تکلیف سے بلبلا اٹھے ۔ ہماری حالت دیکھ کراُس سے رہا نہ گیا اور وہ حجاب کے تمام پردے چاک کرتی ہوئی ہمارے پاس آپہنچی ۔
” حد کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔۔۔ ” آواز تھی یا گویا سخنور بھیا نے ستار کے تاروں کو کہیں سے چھیڑا تھا ۔ ہم اپنی تکلیف بھول گئے ۔ ہماری ہتیھلی پر دل جیسا نشان بن چکا تھا ۔ جسے وہ اپنے دوپٹے سے لپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔ میری فکر نہ کجیئے ‘” ہم نے پہلی بار اپنی عاشقانہ طبعیت کے برعکس متانت اور سنجیدگی سے کہا ۔ ( جس پر ہمیں خود بھی حیرت ہوئی ۔ ورنہ ہم سمجھے تھے کہ کسی فلمی گانے کا آغاز ہونے والا ہے )
” کیسے ٹھیک ہیں آپ ۔۔۔۔ دیکھیئے آپ نے اپنی پوری بائیں ہتیھلی جلا لی ہے ۔ ” اس نے تشویش بھرے لہجے میں ہمیں ہماری ہتیھلی دکھانےکی کوشش کی ۔
اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اور میں عین گلی میں ہیں ۔
” دیکھئے آئندہ احتیاط سے کام لجیئے گا ۔ میں چلتی ہوں ۔ ” جس تیزی سے وہ ہماری طرف آئی تھی اسی تیزی سے وہ اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی ۔
” آپ کا دوپٹہ ” ہم نے صدا لگائی ۔
” پھر لے لوں گی ”
ہم اپنا زخمی ہاتھ لیئے گلی کے کونے پر واقع اپنے جگری یار غیاث کے گھر گئے ۔ صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔ ہم نے اس کو لات مار کر اٹھایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگا ” ظالم ۔۔۔ آخری سین چل رہا تھا ۔ ۔۔۔ گلے بھی ملنے نہیں دیا ۔ ” ہم نے کہا ” ابے ! اپنی فلم کا مہورت بند کر ۔۔ یہ دیکھ میرا ہاتھ جل گیا ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چل ۔
” اوہ ۔۔ یہ کیسے ہوا ۔ ”
“کچھ نہیں موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے اس کی صفائی کرنے لگ گیا تھا ۔ بے دھیانی میں سائلنسر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”
“چل ۔۔۔۔ کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔”
میں اس کی موٹر سائیکل پر سوار اس کے پیچھے بیٹھ گیا ۔
یار ۔۔۔ ہماری گلی میں عین میرے گھر کے سامنے کون آیا ہے ۔ پہلے تو یہاں فاروق صاحب رہتے تھے ۔
” تم نے جب سے کالج کی ہوا کھائی ہے ۔ تم نے محلے میں جھانک کر ہی کب دیکھا ہے ۔ دو ہفتے ہوئے وہ مکان بیچ کر جاچکے ہیں اور کوئی نئی فیملی وہاں رہنے آئی ہے ۔ ”
” ہوں ۔۔۔۔ ”
” ہوں ۔۔ کیا ” ۔۔۔۔۔۔ غیاث نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے استفار کیا ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔۔ بعد میں بتاؤں گا ”
ڈاکٹر کے کلینک سے مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ہم گھر واپس آگئے ۔
غیاث ہمیں گھر چھوڑ کر جاچکا تھا ۔ اور ہم اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے والدِ محترم کا سپنس ڈائجسٹ چوری چھپے پڑھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ مگر دھیان بار بار اسی کی طرف جا رہا تھا ۔ ہم نے سائیڈ ٹیبل سے اس کا دوپٹہ نکالا اور چہرے سے لگایا تو ایک معطر سی خوشبو دل و دماغ میں اُتر گئی ۔ مگر ہمیں ڈر تھا کہ محلے میں اس طرح کی کارستانی کی بھنک اگر والدِ محترم کو پڑگئی تو اس بار وہ چھتر سے نہیں بلکہ اپنی خاندانی بندوق سےگھر کی چھت پر کھڑا کرکے ہمیں شہزادہ سلیم کی طرح داغنے کی کوشش کریں گے ۔ وہاں تو رعایا نے شہزادے سلیم کا ساتھ دیدیا تھا ۔ مگر یہاں تو پورا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے ۔ ” اور والدِ محترم بھی کہتے ” پٹھان کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اورلوگوں سے پوچھ پوچھ کر نشانہ داغتے ” ہم نے جھرجھری لیکر عامر خان کی طرح دوپٹے سے کھیلنے کا ارادہ ترک کرکے اُسے واپس سائیڈ ٹیبل میں چھپا دیا ۔

ایک دن میں اتنے عاشقانہ تغیرات پر ہم سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارے ساتھ کچھ خاص معاملہ ہے ۔ کیونکہ ایک عشق ختم نہیں ہوتا دوسرا دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے ۔ پھر اچانک ہماری نظروں کے سامنے پرنسپل کی صاحبزادی کا سراپا لہرایا تو ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ کیا زبردست خاتون تھیں ۔ مگر ہم نے اس عشق کی ناکامی کو قسمت کی ستم ظریفی سے جوڑتے ہوتے خود کو بڑی بڑی آنکھوں میں‌ غرق کرلیا اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔

دوسرے دن ہم اسکول روانہ ہوئے ۔ اسمبلی شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ ہم اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اسی دوران ہمارے رقیبِ ُروسیا اسٹاف روم میں داخل ہوئے ۔ ہمیں بڑا غصہ آیا کہ ایک دن بھی صبر نہیں‌ ہوا اور فوراً ہی اپنی منظورِ نظر کے دیدار کو آدھمکے ۔ خالد صاحب کو سب نے خوش آمدید کہا اور طبعیت پوچھی ۔ خالد صاحب نے بڑی خوش دلی سے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ منظورِ نظر سے متوقع ملاقات کی خوشی میں ان کی باچھیں ان کے کان سے بھی پیچھے جالگیں تھیں ۔ اور منہ ” بلیک ہول ” کی مانند کھلا ہوا تھا جس میں آدھ سیر کا پورا ایک سیب سما سکتا تھا ۔ خالد صاحب ہمارے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
“یار ! آج ساتھ ہی رہنا ۔ آج دل قابو میں نہیں‌ ہے ۔ ”
خالد صاحب نے سب کی نظر بچاتے ہوئے ہمارا ہاتھ دبا کر شادیِ مرگ کی کیفیت میں اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی ۔
ہم کوئی جلا بھنا جواب دینے ہی والے تھے مگر خالد صاحب کے چہرے پر خوشی کے ساتھ اضطراری کیفیت دیکھ کر ہمیں ان پر ترس آگیا ۔
” یار حوصلہ کرو ۔۔۔۔ اگر یہی کیفیت ہمیشہ طاری تم پر رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور نہ کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ کار میں سوار کرادیں ۔

دل میں نہ ہو جرات اسے محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی

یہ سنتے ہی خالد صاحب تن کر بیٹھ گئے ۔
ہم نے کہا ” یار ۔۔ حوصلے کی بات کی ہے ۔ درزی کو سینے کے ناپ دینے کی نہیں ۔
خالد صاحب ایک دم سے جھینپ گئے ۔
ہماری ہنسی چھوٹ گئی ۔
” یار مذاق کر رہا ہوں ۔ اور تم ہر بات پر سنجیدہ ہو رہے ہو ۔”
” تمہیں پتا ہی نہیں کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تم نے کبھی کی ہوتی تو تم کو معلوم ہوتا کہ اس کیفیت میں انسان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ ”
انہوں نے شکایتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
خالد صاحب کی اس بات پر ہمارے دل سے ایک آہ سی اٹھی مگر ہم نے اس کو دبا لیا ۔ ہم ان کو کیا بتاتے کہ ظالم ۔۔۔۔ حقیقی محبت کا آغاز ہوا ہی تھا کہ تم گرم ہوا بن کر چل پڑے ۔
” کیا آج تم نے اس کو دیکھا ۔؟ ”
خالد صاحب نے اشتیاق کے عالم نے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک تو دیدار نہیں ہوا۔ ”
تھوڑی دیر بعد وہ جلوہ افروز ہوگئی ۔
سب سے سلام کے بعد وہ جیسے ہی کرسی پر بیٹھی تو ہم نے سب سے اجازت چاہی کہ ہمیں پرنسپل صاحب سے ملنا ہے ۔ ہم نے واضع طور پر محترمہ کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے ۔ پرنسپل صاحب سے ملنے کا مقصد ہمیں اپنے تدریسی شعبے سے سبکدوش ہونا مقصود تھا کہ وہ حسینہ ہماری نظروں کے سامنے کسی اور کی نظر آئے ۔ دل کو گوارا نہیں تھا ۔ پرنسپل صاحب موجود نہیں تھے ۔ لہذا ہم دوبارہ اسٹاف روم میں آگئے ۔ مگر خالد صاحب کے چہرے پر معمول کے اثرات دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی ۔ ہم سمجھے تھے کہ اب تک وہ اپنی منظورِ نظر سے ملکر شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہونگے ۔ ہم ان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ ہم نے سامنے دیکھا تو وہ ہمیں ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں بڑی کاٹ تھی ۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہماری بے رخی پر رنجیدہ ہے ۔ مگر ہم اس کو کیا بتاتے ہم نے عشق پر دوستی کو مقدم رکھا ہے ۔ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اسی دوران خالد صاحب نے ہمیں کہنی ماری اور کہا ۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ وہ لاہور سے واپس آگئی ہے ” ۔
ہمیں ایک جھٹکا سا لگا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔۔ یہ جو سامنے بیٹھی تھی ۔ یہی تو پرنسپل کی لڑکی تھی۔۔۔۔ یہی تو آپ کی منظورِ نظر ہے ناں ”
” ارے نہیں یار ۔۔۔۔ پرنسپل صاحب کی یہ لڑکی نہیں ، بلکہ اس سے بڑی والی جو کہ اسی کیساتھ لاہور گئی ہوئی تھی ۔ اس کی واپسی شاید اب تک نہیں ہوئی ہے ”
خالد صاحب نے چہرے پر مایوسی سجاتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ۔
ہم نے اپنا سر کرسی کی پشت پر ٹکا لیا ۔ اور واقعات ِ دہر کے معاملات پر غور کرنے لگے ۔
ابھی کل ہی ہم نےاسی عشق سے خود کو محروم کیا تھا مگر دوسرے عشق نے ہمیں آکر فوراً سہارا دیدیا تھا ۔ اور ہمیں موقع بھی نہیں‌ ملا کہ اپنے نئے عشق کو عشقِ واحد قرار دیکر ا سکو حتمی قراردے دیں ۔ مگر تیز ہواؤں نے ہماری کشتی کا رخ پھر طوفان کی طرف کردیا ۔ یعنی اب پھر وہی دو عشقوں کا معاملہ تھا ۔

میں‌کہاں جاؤں ، ہوتا نہیں فیصلہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ

( جاری ہے )

تبصرہ کریں
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر

“>

2 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( حصہِ انکشاف )

پھر عجب امتحاں آپڑا تھا ۔ ہم عارضی عشق میں مبتلا ہونے آئے تھے ۔ مگر یہاں مستقل عشق کے آثار پیدا ہوچلے تھے ۔ جس سے ہمارے موجودہ دونوں عشقوں کی بقا ، ملک کی سالمیت کی طرح خطرے میں پڑ چکی تھی ۔ کیونکہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق کا خیال ہمارے ذہن سے ایکدم محو ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سوچا تھا کالج کی چھیٹیوں میں اسکول کی جاب جوائن کرکے جب مصنوعی عشق میں مبتلا ہوجائیں گے تو کالج واپسی پر ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائےگی ۔ مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا تھا کہ ہمارا نام تاریخ میں عشق کے حوالے سے فلمسٹار جاوید شیخ کیساتھ لکھے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کے ہم ہرگز محتمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ ناچار ہمیں اس سلسلے میں دوبارہ خالد صاحب سے رجوع کرنا پڑا جو بیمار تھے ۔ ہماری اطلاع کے مطابق خالد صاحب معمولی سے موسمی زکام کا شکار تھے ۔ سو ہم نےاسکول جانے سے قبل ان کی عیادت کا پروگرام بنایا اور ان کے گھر پہنچ گئے ۔

خالد صاحب کو جس حال میں ہم نے بسترِ علالت پر دیکھا تو سوچا کہ عیادت کے بجائے ان کی تعزیت کرکے چلے جائیں ۔ مگر ہم نے اس فریضے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھا ۔ ہمیں ان کی شکل کسی سوکھی ہوئی ، اُلٹی ناسپاتی کی طرح لگی ۔ موصوف دو عدد بڑے سائز کے کمبلوں میں 35 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں لپٹے ہوئے پڑے تھے ۔ داوؤں کا ایک وافر ذخیرہ ان کے بستر کے ساتھ میز پر پڑا ہوا تھا ۔ جسے دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ بازار میں داوؤں کی قلت کا ذمہ دار کون ہے ۔ کچھ دیر ہم خاموشی سے بیٹھے رہے مگر جب خالد صاحب نے کوئی حرکت نہ کی تو ہم نے سوچا ان کے گھر والوں کو خبر کردیں کہ خالد صاحب کا کمرہ ان کے چھوٹے بھائی کے لیئے خالی ہوگیا ہے ۔ مگر اچانک خالد صاحب کروٹ بدلتے ہوئے زور سےکراہے تو ہم نے اس خبر کی اشاعت موخر کردی ۔ خالد صاحب نے اپنی انڈے نما بیضوی آنکھوں سے ہمیں دیکھا تو ہم نے جھٹ سے سلام جڑ دیا ۔ اور ان کی خیریت پوچھی ۔
انہوں نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا ” اب آئے ہو ۔۔۔۔ وہ بھی اکیلے ” ۔
ہم سے رہا نہیں گیا اور کہا ” آپ فکر نہ کریں ۔ تین آدمی بھی کہیں سے مل ہی جائیں گے ۔ ”
انہوں نے ہماری بات کو شاید سمجھا نہیں اور کہا ” میرا مطلب ہے کہ ہماری منظورِ نظر کو بھی ساتھ لے آتے ۔ کم از کم مجھے اس حال میں دیکھ کر اس کا دل پسیجتا اور اپنا دل ہار بیٹھتی ۔ ” ہم سمجھ گئے کہ خالد صاحب نے روایتی عاشقوں کی طرح اپنی بیماری کا ڈرامہ رچا کر اپنی منظورِ نظر کی ہمددریاں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔
” خالد صاحب ۔۔۔ ! ہماری اطلاع کے مطابق ، آپ کی منظور نظر کی اب تک واپسی نہیں‌ ہوئی ہے ۔ مگر آپ کے ڈرامے میں اس قدر جان ہے کہ اگر وہ آ بھی جاتی تو سب سے پہلے آپ کو اس حال میں دیکھ کر آپ کے چالیسویں کا دن ضرور مقرر کرتی ۔ کچھ خدا کا خوف کرو یار ۔ اس قدر گرمی میں دو لحاف لیکر پڑے ہوئے ہو ۔”
” لگتا ہے میری ٹائمنگ غلط ہوگئی کہ میری اطلاع کے مطابق اس کو اب تک آجانا چاہیئے تھا ۔ خیر تم سناؤ کیا پروگریس ہے ۔ ”
انہوں نے جھنپتے ہوئے اپنے ایکسرے جیسے جسم سے دونوں لحاف ہٹاتے ہوئے سوال کیا ۔
” کیا بتاؤں ۔۔۔ بس قیامت ہوگئی ہے ۔ ” ہم نے اضطراری کیفیت اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔۔ اسکول میں تو سب ٹھیک ہے ناں ۔ کہیں تم نے ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے خالد صاحب ہمارے کردار پر سیاستدانوں کی طرح انگلیاں اٹھاتے، ہم نے انہیں روک دیا ۔
” یار ! پوری بات سنو ” ہم نے جُھلجھلاتے ہوئے کہا ۔
” ہم تیسرے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ” ہم نےاپنی نئی کشمکش کا سبب ان کے سامنے بیان کردیا ۔
” ویری گڈ ۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ کالج کی چھٹییاں ختم ہونے سے پہلے تمہارا مسئلہ حل ہوگیا ۔ اب دیکھتے ہیں کہ کالج واپسی پر تمہارے نصیب میں صبح کا نور آتا ہے یا شام کا چراغ ۔ ”
” ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ معاملہ ہمیشہ کی طرح المناک صورت اختیار کرگیا ہے ۔ ” ہم نے رونی سی صورت بنا لی ۔
” کیوں کیا ہوگیا ” خالد صاحب نے تشویش اور حیرت کی درمیان گُھسنے کی کوشش کرتے ہوئے سوال داغا ۔
” کل ہم نے جو حیسن سراپا دیکھا ، اس کے بعد دل کسی طرف مائل نہیں ہورہا ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایکدم سے ہمیں کیا ہوگیا ہے ۔ ”
پھرہم نے بےچارگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا ۔۔۔

میری قسمت میں عشق گر اتنے تھے
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

” یار ! کم از کم شعر تو صحیح کہہ لو ” خالد صاحب نے بسترِ مرگ پر بھی غالب کا دفاع کیا ۔
” جنابِ من ۔۔۔ اگر چچا غالب ایسی کشمکش میں مبتلا ہوتے تو وہ بھی اسی خیال کے مالک ہوتے ۔ انہیں تو ایک عشق نے اتنے غم دے دیئے ۔ ہمارا سوچو کہ ہم اتنے عشقوں کے ساتھ کتنے غم جھیل رہے ہونگے ۔ ”
ہم نے خالد صاحب پر پوسٹ مارٹم شدہ شعر کے فضائل وضع کرنے کی کوشش کی ۔
” اچھا چھوڑو یہ شعر و شاعری اور بتاؤ ۔۔۔۔۔ پھر کیا ہوا ، کون تھی ، کیا کوئی بات ہوئی ، اسکول ٹیچر تھی یا کوئی وزیٹر تھی ۔ ؟ ”
خالد صاحب نے ایک ساتھ 12 وٹامن کی گولیاں کھا کر سوالات کی بوچھاڑ کرڈالی ۔
” بس اسکی ایک جھلک دیکھ پایا ، اور اس نے جس نظر سے ہمیں‌ دیکھا ، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نظر میں کچھ اور تسلسل رہتا تو ہم دیوانے ہوجاتے ۔ ”
ہم نے خالد صاحب پر اپنی کیفیت عیاں کرنے کی کوشش کی ۔
” ہمممم ۔۔۔۔ ” خالد صاحب نے سوچ میں پڑگئے ۔
” آج اسکول جاؤ ۔۔۔۔ اگر ٹیچر ہے تو ضرور نظر آجائے گی ۔ ویسے تم نے کسی میلے میں ماں سے بچھڑے ہوئے بچے کی طرح اپنی جو شکل بنا رکھی ہے ۔ اسے دیکھ کر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ تمہارا آخری اور حتمی عشق ہوگا ۔ اور اگر ایسا ہے تو تم کو چنداں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تمہارے “سابقہ ” عشقوں کا کیا ہوگا ۔ میرے بھائی ۔۔۔ ! زندگی میں ایک ہی عشق کافی ہوتا ہے ۔ اگر یہ عشق سچا ہے تو تمہارے عشقوں کو بریک لگ جانا چاہیئے ۔ اس صورتحال میں یہ سودا برا نہیں ہے ۔ ”
خالد صاحب نے ہمارے موجودہ عشقوں کو سابق قرار دینے کا فتوی جاری کرتے ہوئے ہماری فقیرانہ طبعیت پر بھی چوٹ کی ، مگرہم نے اسے نظرانداز کردیا کیونکہ ہمیں کوئی ایسا سیاسی بہانہ درکار تھا جو ہمیں اپنے پچھلے بیانات ( عشق ) سے منحرف کردے ۔ چنانچہ ہم نے ان کے فتویٰ پر لبیک کہتے ہوئے اپنے دونوں عشقوں سے منحرف ہوتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داری خالد صاحب پر ڈال دی ۔
” خالد صاحب ۔۔۔۔ تُسی گریٹ ہو ” ہم جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ مگر ہم نے ان کے ہاتھ چومنے سے پرہیز کرتے ہوئے صرف اسے تھامنے تک ہی محدود رکھا ۔ کیونکہ کسی سالن کی بُو کیساتھ اب ہم میں داؤوں کی بُو سونگھنے کی بلکل ہمت نہیں تھی ۔

خالد صاحب کی دعاؤں اور فتوے کیساتھ ہم اسکول کی طرف روانہ ہوئے ۔ جانے کیوں دل کو یقین ہوچلا تھا کہ آج اُس لالہ رخ سے ملاقات ہوجائے گی ۔ راستے میں اس حسینہ کے تصور میں ہم کچھ ایسے منہمک ہوئے کہ اسکول سے بھی تقریبا تین کلو میٹر آگے نکل گئے ۔ ہوش تب آیا جب ہم ایک بھینس سے بغلگیر ہوتے بال بال بچے ۔ بھینس نے غصے کے عالم میں اپنی غزالی آنکھوں سے ہمیں دیکھا اور ایک لمبی سی ” ہوں ” کی تو ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہہ رہی ہو ” شرم نہیں آتی کسی کو چھیڑتے ہوئے ۔ ” ۔ بھینس کے اس شکوے پر ہمیں اپنے ذوق کی بے مائیگی کا شدت سے احساس ہوا ۔ مگر ہم نے یہ بھی شکر کیا کہ آس پاس کوئی بیل نہیں تھا ۔ ورنہ اس کو بھینس کے سامنے اپنے نمبر بناتے ہوئے ذرا سی بھی دیر نہیں لگتی ۔ ہم نے کمالِ پھرتی سے موٹر سائیکل کو واپس موڑا اور دوبارہ اسکول کی طرف روانہ ہوگئے ۔ اسکول ذرا تاخیر سے پہنچے ۔ اسمبلی شروع ہوچکی تھی اور قرات جاری تھی ۔ ہم سیدھا اپنی جگہ گئے اور وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔ غیرارادی طور پر ہماری نظر سامنے خواتین ٹیچرز کی قطار پر پڑی ۔ وہ وہاں موجود تھی ۔ ہمارا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ ہم نے واضع طور پر اس کو اپنی طرف متوجہ پایا ۔ ہمارے دل کی دھڑکن اتنی بلند ہوگئی کہ ساتھ کھڑے ہوئے مجاہد صاحب ہمیں خونخوار نظروں سے گھورنے لگے۔ شاید ان کا خیال تھا کہ ہم اپنی جیب میں واک مین لیئے گھوم رہے ہیں ۔ خوشی کے عالم میں ہم قومی ترانے میں بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے ۔

حسبِ معمول اسمبلی سے فارغ ہوکر ہم اسٹاف روم آئے ۔ ہمارے ساتھ مجاہد صاحب بھی تھے ۔ کیونکہ ان کا بھی ہماری طرح کلاس ٹیچر نہ ہونے کی وجہ سے پہلا پریڈ کہیں نہیں تھا ۔ ہمیں بے چینی سے اس حسینہ کے کوائف درکار تھے ۔ مجاہد صاحب سے اس بارے میں پوچھنے کا مطلب پولیس کے تفتیشی مراحل سے گذرنا تھا ۔ سو ہم خاموش رہے ۔ ہم نے وقت گذاری کے لیئے اخبار کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسٹاف روم میں داخل ہوئی اور عین ہماری سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی ۔
” السلام علیکم سر ” ۔ ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے کوئی مدھر سا گیت چھیڑ دیا ہو ۔ وہ ہم سے ہی ہمکلام تھی اللہ اللہ ۔
” وعلیکم السلام ” ہم نے مشینی انداز میں جواب دیا ۔
” آپ کے بارے میں کافی سنا تھا ، سوچا کہ واپسی پر فوراً آپ سے ملاقات کی جائے ۔ مگر ۔۔۔۔ کل آپ کہاں غائب ہوگئے تھے ۔ ” اس نے شکوے بھرے لہجے میں پوچھا ۔
ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے دفتر سے واپسی پر تاخیری کے سبب ہمیں نخرہ دکھایا جا رہا ہے ۔ اور پھر ہم نے خیالوں ہی خیالوں میں دروازے پر شوہروں کی طرح اُسے اپنا بریف کیس پکڑواتے ہوئے بھی دیکھا ۔
ہم اس کو کیا بتاتے کہ ” اے حسینہ ! کل تجھ کو کہاں نہیں ڈھونڈا ، ساری رات ہم نے تیرے تصور میں گذاری ، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ہم اپنے تمام سابقہ عشقوں سے بھی تائب ہوئے ۔”
” سر ۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ ” اس نے ہمیں دوبارہ اسٹاف روم میں لاتے ہوئے پکارا ۔
” دراصل کل مجھے جلدی تھی ۔ اس لیئے میں چلا گیا تھا ۔ ” ہم نے اپنی خودی کو بلند رکھا
” اوہ ۔۔۔۔ خیر آپ سنائیں ، اسکول میں پڑھانے کے سوا اور آپ کیا کرتے ہیں ۔ ” اس نے بڑی انہماکی سے پوچھا
” پڑھانے کے علاوہ ہم بس عشق کرتے ہیں ۔ ” ہمارے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا ۔
” ہم فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں ۔ خالد صاحب نے کالج کی چھٹیوں میں اسکول میں پڑھانے پر راغب کیا کہ اس سے پچھلے نصابوں کی بھی یاد دہانی ہوجاتی ہے ۔ ”
ہم نے کمالِ ڈھٹائی کیساتھ دروغ گوئی سے کام لیا ۔
” ہاں یہ تو سچ ہے ۔ کیونکہ میں نے بھی یہی سوچ کر یہاں پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا اور اس بہانے پاپا کا بھی کچھ کام سنبھال لیتی ہوں ۔ ”
اس کے جملے کے آخری حصے سے ہمارے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی اور ہم نے استفار کیا ۔
” پاپا کا کام ۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں سمجھا ۔ ”
” ارے ہاں ۔۔۔ آپ نئے ہیں ناں ۔۔۔ اس لیئے شاید آپ کو علم نہیں کہ پرنسپل صاحب میرے پاپا ہیں ۔ ”
اس نے ہمارے سر کے عین اوپر شاید دنیا کے تیسرے ایٹم بم کا دھماکہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ۔
ہم اپنی محبت کے تصوراتی ڈرامے کے پہلے ہی سین میں بریف کیس سمیت دروازے پر سے ہی لوٹا دیئے گئے ۔
کیونکہ اس بار جس کو ہم اپنا دل دے بیٹھے تھے ۔ وہ خالد صاحب کی منظورِ نظر تھی ۔
( جاری ہے )

8 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( سانحہِ “سوئم” )

ہم حسبِ وعدہ پیر کی صبح خالد صاحب کے اسکول پہنچ گئے ۔ ہم نے سفید کارٹن کی شرٹ اور بلو جینز پہن رکھی تھی ۔ ہماری معصوم سی شکل سے متاثر ہوکر اسکول کے چوکیدار نے ہمارے پسندیدہ لباس کو اسکول کی یونیفارم سمجھ کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا ” اوئے خوچہ ! تم اتنی دیر سے اسکول کیوں آیا اے ۔ ام تم کو اندر نئیں جانے دیگا ۔ ”
ہم نے کہا ” خان صاحب ! آپ کو سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ہے ۔ ام ۔۔۔۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہم ۔۔۔ اس اسکول میں پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آئے ہیں ۔”
خان صاحب بولے ” اوئے امارا ساتھ مخولی مت کرو اور اپنا والدین ساتھ لاؤ ۔ ”
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ خالد صاحب اندر سے نمودار ہوئے اور کہا ” یار کہاں رہ گئے تھے اور یہاں گیٹ پر کیا کررہے ہو ۔ ”
ہم نے کہا ” لگتا ہے خان صاحب چوکیداری سے پہلے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی سلکیشن کمیٹی میں تھے کہ ان کو اپنی عمر کا یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے ۔”
خالد نے ہماری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے جلدی سے کہا کہ ” چھوڑو اس قصے کو ، اندر چلو ۔ پرنسپل صاحب انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
ہم خالد کیساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب نے ہمیں بیٹھنے کو کہا ۔
پرنسپل صاحب نے ہمارے تعارف اور تعلیمی اسناد دیکھنے کے بعد کہا ۔
” خالد صاحب نے آپ کو یہاں کے قوانین اور باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہوگا ۔ ”
” آپ کو دن میں چار پریڈز لینے ہیں ۔ دو نویں اور باقی دسویں کلاس میں ۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہزار روپیہ ماہانہ دوں گا ۔ آپ کو قبول ہے ۔ ؟ ”
ہمیں تو پرنسپل صاحب ، پرنسپل سے زیادہ قاضی لگے ۔
ہزار روپے ہمارے دو ہفتے کا جیب خرچ تھا اور موصوف ہمیں ان پیسوں کی نوید ایسے سنا رہے تھے جیسے کسی خزانے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہوں ۔ خیر ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل سے غرض تھی اور وہ ان پیسوں کیساتھ ہو رہی تھی تو کیا برا تھا ۔ ؟
جی ۔۔۔ میں راضی ہوں ۔
ہم نے ” قبول ” ہے کہنے سے قدرے اجتناب کیا ۔
“گڈ ۔۔۔۔۔ خالد صاحب ! آپ ان کو ان کی کلاسز دکھادیں ۔ امید ہے کہ آپ کا وقت یہاں اچھا گذرے گا ۔ ”
پرنسپل صاحب نے گویا ہمیں جانے کی اجازت دیدی ۔
وقت تواچھا گذرنا ہی تھا کہ ہم دیکھ چکے تھے کہ اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے تناسب میں خاصا فرق تھا ۔بعد میں ہم نے حساب لگایا تھا تو یہ تناسب لڑکیوں کے حق میں نکلا ۔ یعنی 73 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے ۔
سب سے پہلے خالد صاحب ہمیں اسٹاف روم لے گئے ۔ اور ہمارا تعارف تمام ٹیچرز سے کرایا ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی کہ پرنسپل صاحب نے ٹیچرز کی تعداد میں بھی اسکول کے طلباء و طالبات والا تناسب رکھا ہوا تھا ۔ خالد صاحب کے علاوہ ایک اور مرد ٹیچر تھے ۔ ان کا نام مجاہد معلوم ہوا ۔ شکل سے ہمیں حُجتی لگے ۔ ماشاءاللہ وہ اتنے باریش تھے کہ ان کو اپنے گربیاں کے چاک ہونے کی چنداں فکر کرنےکی ضرورت نہ تھی ۔انہیں اسلامیات کے مضامین پڑھانے کے لیئے مقرر کیا گیا تھا ۔ ہم تینوں کے علاوہ باقی سب خاتون ٹیچرز تھیں ۔ جن کی تعداد ہم پہلی نظر میں گن چکے تھے ۔ کُل تعداد اصولاً تو 9 بنتی تھی ۔ مگر ایک خاتون ٹیچر اتنی صحت مند تھیں کہ ہم اس تعداد کو ساڑھے 9 سے کم قرار دینے پر ہرگز تیار نہ ہوئے ۔ چند ایک اتنی حیسن تھیں کہ ہم نے سوچا کہ آج ہی سے اپنے عشق کے رجسٹر میں کسی ایک کا کھاتہ کھول دیں ۔ مگر خالد صاحب کی نظروں میں اپنے لیئے تنبیہ دیکھ کر ہم اس ارادے سے باز رہے ۔ خالد صاحب نے مذید کہا کہ کچھ ٹیچرز ابھی کچھ دنوں‌کی رخصت پر ہیں ۔ اُن سے تعارف اُنکی واپسی پر کرادیا جائے گا ۔ اس کے بعد خالد صاحب ہمیں نویں و دسویں کی کلاسز میں لے گئے اور وہاں بھی ہمارا تعارف کرایا ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری اور طلباء و طالبات کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سےطالبات ہمیں شوخی اور طلباء شکی نظروں سےدیکھ رہے ہیں ۔ پہلا دن تعارف کی نظر ہوگیا ۔ اور ہم پرنسپل اور خالد صاحب سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوگئے کہ کل سے ہمیں باقاعدہ طور پر جاب پر آنا تھا ۔

دوسرے دن ہم ٹیچر کی حیثیت سے اسکول پہنچ گئے ۔ مگر خان صاحب کو دوبارہ گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹکے ۔ لیکن خان صاحب نے ہمیں دیکھ کر اپنی باچھیں پھیلادیں ‘ اور کہا ” پخیر راغلے سر جی ۔۔۔۔ آپ کو آج اسکول میں پہلا دن مبارک ہو ” ۔ ہم نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ خالد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہم پہلے اسٹاف روم گئے ۔ جہاں خاتون ٹیچرز کے علاوہ مجاہد صاحب بھی براجمان تھے ۔ ابھی اسکول کی اسمبلی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ سلام کے بعد مجاہد صاحب نے اپنی شخصیت کے تاثر کے عین مطابق باقاعدہ ہمارا انٹرویو لینے کا آغاز کردیا ۔ ہمیں بھی انٹرویو دینے میں کوئی ترّرد نہیں ہوا کہ تمام خاتون ٹیچرز کی نظریں اخبار اور کان ہمارے انٹرویو پر لگے ہوئے تھے ۔ ابھی وہ ہمارے شجرہ ِ نسب پر ہی تھے کہ خالد صاحب آگئے ۔ جس سے انٹرویو کا سلسلہ موقوف ہوگیا ۔
اسمبلی کے دوران ہم سے خالد صاحب نے سرگوشی سے پوچھا ” کیا کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ؟ ”
ہم نے نفی سے سر ہلا دیا
” خیر ابھی پہلا دن ہے ۔ پہلے سب سے واقفیت پیدا کرلو ۔”
ہم نے شکر کیا کہ خالد صاحب کےدماغ میں‌ یہ بات آگئی ۔
” آپ کی منظورِ نظر کہاں ہے ۔ آپ نے اس سے تعارف نہیں کرایا ۔ ”
ہم نےایک خدشے کے پیشِ نظر خالد سے سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ؟ ”
خالد نے شکی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہم سے الٹا سوال کر ڈالا ۔
” وہ اس لیئے کہ کسی سے ” آنکھ مٹکا ” کرنے سے پہلے ہمیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ وہ کہیں آپ کی منظورِ نظر تو نہیں ۔ ”
ہم نے جل کر جواب دیا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ۔ ” خالد صاحب کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوگئے ۔ مگر ان کی آنکھوں کے ڈیلے پھر بھی کسی تاثر سے بے نیاز رہے ۔
” وہ اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی ہے ۔ کچھ روز میں واپسی متوقع ہے ۔ ”
اپنی منظورِ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں کےدرمیان تعلقات اچانک کشیدہ ہوگئے ۔ شاید انہوں نے اس کے سراپے کے تصور کو مختلف زاویوں سے اپنے ڈیلوں میں سمونے کی کوشش کی تھی ۔

ہم اپنی باتونی طبعیت کے باعث خواتین ٹیچرز میں جلد ہی گھل مل گئے ۔ حسبِ توقع ہمیں کئی حسینوں نے آنکھوں کے راستے کئی سندیسے بھیجے ۔ جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کئی بار مچلا ۔ مگر ہم نے اپنی فقیری عاشقانہ طبعیت کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا اور کوشش کی کہ آنکھیں بند کرکے کسی کیساتھ اپنے مصنوعی عشق کا آغاز کردیں ۔ مگر دل اس پر راضی نہ ہوا ۔ کئی دن اسی شش و پنچ میں گذر گئے ۔ اسی دوران خالد صاحب کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کچھ دن کی رخصت لیکر گھر پر آرام فرما ہوگئے ۔ چنانچہ ان کی کلاسیں لینا بھی ہمارا مقدر ٹہریں اور ہم مکمل طور پر تدریسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک دن ہم دسویں کلاس کے آخری پریڈ میں جیومیٹری کے رازوں سے پردے اٹھا رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر کلاس کے باہر کھڑکی سے راہدری میں پڑی ۔ جیومیٹری کے جس زاویئے کی ہم تعریف کررہے تھے اسی زاویئے پر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ایسا حیسن چہرہ ، ایسا حسین سراپا ، ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ امی حضور کی خواتین ڈائجسٹوں سے چوری چھپے پڑھی جانے والی کہانیوں کے تمام اقتباسات ہمارے ذہن میں یکدم روشن ہوگئے ۔ دودھیا رنگت پر کالی زلفیں ناگ بن کر اس کے کارٹن کے کُرتے پر بنے ہوئے ڈیزائن سے اٹھکھلیاں کر تی ہوئی نظر آئیں ۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک جھلملا رہی تھی ۔ سرخ انگوری ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ کا بسیرا لگا ۔ چوڑی دار پاجامے میں اس کی قد و قامت کسی دیودار کے درخت کی مانند لگی ۔ صراحی دار گردن میں ایک سنہری چین اپنی قسمت پر رشک کرتی ہوئی نظر آئی ۔ کانوں میں سلور جُھمکے سورج کی سنہری تپش میں قوح و قزح کا سماں باندھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ کُرتے کے گلے کے کڑائی کے کام میں ہمارا پسندیدہ نیلا رنگ نمایاں تھا ۔ اسکے بائیں رخسار پر پڑے ہوئے گڑھے کے بھنور میں ہم نے خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کیا ۔ خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں پڑھے ہوئے بہت سے جملے ابھی باقی تھے کہ وہ ظالم حسینہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ، ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ اور ہم پلٹ کر دیکھنے والے کی طرح پتھر کے بُت بنے رہ گئے ۔ کب پریڈ ختم ہوا ۔ کب چھٹی ہوئی ، کب کس اسٹوڈینٹ نے آکر 180 کے زاویئے پر کُھلا ہوا ہمارا منہ بند کیا ، کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس نے ہم کو ایک لمحے ترچھی نظر سے دیکھا تھا ۔ جو تیر کی مانند ہماری آنکھوں سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ۔ اور ہم یہ کہنے کی آس دل میں لیئے کھڑے رہ گئے کہ ۔۔۔۔

ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اپنے عاشق ِ دل گیر کو
کیسے تیر انداز ہو ، سیدھا تو کر لو تیر کو

چھٹی کے بعد بھی ہم اُسے دیوانہ وار اسکول میں ڈھونڈتے رہے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ اور ہم اس تڑپ کیساتھ گھر واپس لوٹے کہ ” ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی تمنا ہے “۔ گھر آکر ہم کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے اور اس کے تصور میں کھو گئے ۔ کاش کسی فلم کے ہیرو ہوتے تو خیالوں میں اس کے ساتھ کسی گانے میں جلوہ افراز ہوجاتے اور گانے کا ایک سین سنگاپور میں فلماتے تو دوسرا سین سوئیزلینڈ میں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں‌ہوتی ، بلکہ پورا فلمی اسٹاف ہمارے عشق کے تحفظ کی خاطر کمیرے لیئے ہمارے آگے پیچھے ہوتا ۔ رات خوابوں میں بھی وہی سراپا لہراتا رہا ۔ ہم خلاف ِمعمول صبح جلدی اٹھ گئے ۔ اور حسب ِ معمول والدِ محترم نے ہمیں حیرت سے دیکھا اور کہا ” جاؤ ! سو جاؤ ۔۔۔ میں دودھ لے آیا ہوں ۔ ” ہم ان کے طنز پر کوئی تبصرہ کیئے بغیر ، فجر کی نماز پڑھنے کا اعادہ کرتے ہوئے وضو کے لیئے باتھ روم میں گھس گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آخری بار ساتویں کلاس میں فجر کی نماز پڑھی تھی جس میں اللہ میاں سے سالانہ امتحان کے پرچے میں ہونے والی غلطی کی درستگی کے لیئےگڑگڑا کے دعا کی تھی ۔ کیونکہ ہم تاریخ کے پرچے میں زبردست دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے کہ دیوارِ برلن کی توڑ پھوڑ کا ذمہ دار محمود غزنوی کو بنا آئے تھے ۔
(جاری ہے )

15 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( گذشتہ سے پیوستہ )

ہم خالد کو ایک قربیی خان صاحب کے کیفے لے گئے ۔ کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ چائے خالد کی کمزوری ہے ۔ لہذا ان کی خاطر ومدارت کرنا بھی چائے سے لازم ٹہری ۔ ابھی چائے کا نزول ہوا ہی تھا کہ موصوف نے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پورا چائے کا چینک ( کیتلی ) ایک سانس میں خالی کردیا ۔ اس قدر گرم چائے اور اس طرح حلق میں اُتارنے کا مظاہرہ ہم نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ حلق میں جانے کس کمپنی کی فائبر آپٹیکل کیبل انسٹال کرائی ہوئی تھی کہ ساری چائے حلق چھوئے بغیر ان کے معدے میں براجمان ہوچکی تھی ۔ ہم نے خان صاحب کو آنکھ مارتے ہوئے دوسری فرضی چینک کا آرڈر دیا اور جلدی سے اپنا مسئلہ خالد کے سامنے گوشوار کردیا کہ ہمارے جیب میں مذید چائے کی چینک کے لیئے معقول رقم موجود نہیں تھی ۔

ہماری داستانِ غم سن کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے باندھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور پھر کسی سوچ میں گُم ہوگئے ۔ یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لیں تھیں ۔ کیونکہ ان کی آنکھوں کے پپوٹے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں سے بہت چھوٹے تھے ۔ ایک ڈیلے کا سائز تقریباً ایک سواتی سیب جتنا تھا ۔ اور ان پپوٹوں سے ان ڈیلوں کا احاطہ کرنا ناممکن تھا ۔ ہم کچھ دیر تو صبر کرتے رہے ۔ مگر جب ان کا استغراق طول کھینچنے لگا تو ہمیں چائے کا حقیقی آرڈر دیکر ان کو اُلوؤں کی طرح شاخ سے اتارنا پڑا ۔ انہوں نے اپنی پہلے سے کھلی ہوئی آنکھوں کو مذید کھولنے کی ناکام کوشش کی اور میز پر انگلیاں بجاتے ہوئے خان صاحب کی طرف دیکھنے لگے ۔ ہم نے ان کو اپنا مدعا یاد دلایا تو بڑی گھمبیر آواز میں مخاطب ہوئے ۔

” یار تمہارا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں ایک عشق پانے کے لیئے دوسرے عشق کو کھونا پڑے گا ۔”
ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا ۔
” جی جناب ۔۔۔ ہمیں علم ہے ۔۔۔ مگر کسی ایک عشق سے ہاتھ دھونا ہمیں زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف لگ رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ”
ہم نے شاہ رخ خان کی طرح گھگیانے کی ناکام ایکٹنگ کی ۔

اے غمِ زندگی ، کچھ تو دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ

خالد صاحب نے دوسری چائے کی چینک کیساتھ بھی تاتاریوں جیسا سلوک روا رکھا ۔
” دیکھو ۔۔۔۔۔ ” خالد صاحب نے جیسے کچھ کہنے کا آغاز کیا ۔
” لگتا یہی ہے کہ یہ عشق تمہارے اندر تک اُتر چکے ہیں ۔جن سے جدائی تمہارے لیئے ممکن نہیں ۔ اس کا علاج یہی ہے کہ کسی ایک عشق کا اثر تمہارے دل سے کچھ اس طرح زائل ہو جائے کہ دوسرا عشق تمہاری زندگی کی حتمی صورت بن جائے ۔ ”
” مگر یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ؟ ” ہم تقریباً گڑگڑائے ۔
ہمیں ان کے فلسفے سے زیادہ اپنے مسئلے کے حل کی فکر تھی ۔
انہوں نے میز پر دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے اپنے بڑے بڑے ڈیلوں والی آنکھیں کو ہماری جھیل جیسی معصوم آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جیسے ڈبونے کی کوشش کی اور پھر فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
” تمہیں ۔۔۔ ایک تیسرا عشق کرنا پڑے گا ”
ہمیں ایسا لگا کہ کسی بچھو نے ہمیں ڈنگ مار دیا ہو ۔ مگر ہم پٹھان کے ہوٹل کی بوسیدہ چھت کا خیال کرکے اچھلنے سے باز رہے ۔
” خالد صاحب ۔۔۔ ہم آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کر آج کے دن کا جیب خرچ بمعہ موٹر سائیکل کے پیٹرول کے پیسے ، چائے کی صورت میں آپ پر وار چکے ہیں ۔ یہ شام کی شفق اور صبح کا اجالا ہماری ننھنی سی جان پر کیا بھاری نہیں تھا کہ آپ تیسرے عشق کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ کچھ تو خیال کجیئے ۔ ”
“یار ۔۔۔ تم نرے احمق ہو ۔ عشق کا روگ لگا لیتے ہو ۔ پھر دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے ہو “۔ خالد صاحب نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔
دیکھو ۔۔۔۔ اگر تم تیسرا عشق کروگے تو تمہارے دل سے ان دو عشق میں سے کسی ایک عشق سے بیزاری خود بخود پیدا ہوجائے گی ۔ اور جس سے بیزاری پیدا ہوجائے اس کو الوادع کہہ کر دوسرے والے کو اپنی مستقل منزل بنالینا ۔ آسان سا حل ہے ۔ ”
” پھر تیسرے عشق کا کیا ہوگا ۔؟ ”
ہم نے اپنی زیرو وولیٹج والی کھوپڑی سے ان کے اس عظیم الشان منصوبے کو سمجھتے ہوئے اپنا خدشہ بیان کردیا ۔
” پھر وہی احمقوں والی بات ۔۔۔۔ ارے تم تیسرا عشق کونسا دل کے کہنے پر کروگے ۔ وہ عشق تو تم اپنے ان موجودہ عشقوں میں سے کسی ایک عشق کو بھلانے کے لیئے انجام دوگے ۔ جب منصوبہ پایہ ِ تکمیل تک پہنچے گا تو تیسرے عشق کو بھلانا کونسا مشکل ہوگا کیونکہ اس کی افادیت صرف قیلوے کرنے کے مترادف ہوگی ۔ ”
خالد کو شاید ہماری طبعیت کا اندازہ نہیں تھا ۔ سو ہم نے ڈرتے ڈرتے ان سے سوال کیا
” اگر تیسرے عشق میں بھی ہم دل و جاں سے فدا ہوگئے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
یہ سنتے ہی خالد صاحب نے پی آئی اے کے پرانے فوکر جہاز کی طرح کرسی پر بیھٹے بیھٹے کئی خوفناک جھٹکے لیئے اور پھر غصے سے کھڑے ہوگئے ۔
” یار ۔۔۔۔ عجیب آدمی ہو ۔۔۔۔ عشق بھی تم اس طرح ہضم کر لیتے ہو جیسے مولوی حلوے کا حشر کرتے ہیں ۔ میں تم کو اتنا مفید مشورہ دے رہا ہوں اور تم عشق میں ڈنڈی پہ ڈنڈی مار رہے ہو ۔ کچھ تو خوفِ خدا کرو ۔ ”
ہم ڈر گئے کہ خالد صاحب ناراض ہوگئے تو ان کو منانا پھر بہت مشکل ہوگا ۔
” سوری خالد ۔۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا ۔ بیٹھئے ۔۔۔ میں اور چائے کا آرڈر دیتا ہوں۔ ”
ہم نے خان صاحب سے ادھار کا تقاضا کرتے ہوئے تیسری چائے کا آرڈر دیا ۔
“‌خالد صاحب ۔۔۔۔ آپ کا مشورہ مجھے پوری طرح سمجھ آگیا ہے ۔ واقعی تیسرا مصنوعی عشق ہی اجالا اور شفق میں‌ سے ، کسی ایک کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے ۔ مگر ہنوز دلّی دور است ” ۔ ہم نے اپنی پریشانی پھر ظاہر کی ۔
” اب کیا ہوگیا ۔ ؟ ”
خالد نے بیزاری سے استفار کیا
” یہ تیسرے عشق کا سامان کہاں سے دستیاب ہوگا ۔ ؟ ”
ہم نے بلآخر اپنا حتمی مدعا بیان کردیا ۔
خالد صاحب نے اپنی ” انٹولے ” جیسی آنکھوں کو بھینچنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے وہ ہمیں کچھ اور خطابات سے نوازتے ۔ ہم نے فوراً کہا ۔
” لجیئے خالد صاحب ! چائے آگئی ۔۔۔ پیجیئے اور پلیز اس معرکہ کے آخری حصے پر بھی دماغ سوزی کرلیں ۔ ”
چائے دیکھ کر خالد صاحب کی آنکھیں واپس سواتی سیب جتنی ہوگئیں ۔
” میرے پاس اس کا بھی ایک حل ہے ۔ ” خالد نے کچھ توقوف کے بعد کہا ۔
ہماری باچھیں کان سے جا لگیں ۔
” جی جی ارشاد ۔۔۔۔ ”
ہم صبر کی آخری سرحدوں پر کھڑے ہوگئے
” میرے اسکول میں دسویں کلاس کے لیئے میتھ کے ٹیچر کی ضرورت ہے ۔ تم وہ جاب جوائن کرلو ۔ ”
ہمیں بڑا غصہ آیا کہ پورے 33 امتیازی نمبروں کیساتھ ہم نے دسویں کلاس میں حساب کا پرچہ پاس کیا تھا ۔ اب موصوف ہم کو جانے کس آزمائش میں دوبارہ دھکیل رہے تھے ۔
” اس سے کیا ہوگا جناب ۔۔۔۔ ” ہم نے بڑی عاجزی سے پوچھا ۔
” پوری بات سنو ۔۔۔۔۔ خالد صاحب نے ایک مشہور مذہبی اسکالر کی طرح ناصح انداز میں ہمیں مذید کچھ کہنے سے روک دیا ۔
” وہاں فیمل ٹیچرز ہیں ۔ جن میں سے اکثر میری طرح کالج میں بھی پڑھتیں ہیں اور اسکول میں بھی پڑھاتیں ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ آنکھ مٹکا کر لو ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے خالد صاحب ۔۔۔ گاؤں کے کسی چودھری کی طرح ہمیں اپنا اُچکا سمجھ کر کسی کڑی کو چُک لینے کی بات کر رہے ہیں ۔
” جناب ۔۔ یہ آنکھ مٹکا تو فلرٹ کے دائرے میں آتا ہے ۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہوگا۔؟ ”
ہم نے اپنی بچی کچی اخلاقی جرات کو بروئے کار لاتے ہوئے خالد صاحب سے ان کے الفاظ کی نظرِ ثانی کی طرف اشارہ کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ تمہیں فلرٹ ہی کرنا ہے ۔ اس لیئے اس لفظ کا انتخاب کیا ۔ اگر تیسرا سچا عشق کرنا ہے تو میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ مگر خدا کے لیئے میرے پاس مت آنا ۔ مجھے چائے پینے کا شوق ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ زندگی کی باقی چائے، پاگل خانے میں بیٹھ کر پیئوں ۔ ”
خالد صاحب نے آخر کار ہری جھنڈی ہاتھ میں پکڑ لی ۔ اس سے پہلے وہ ہری جھنڈی لہراتے ۔ ہم نے کہا ۔
” ٹھیک ہے خالد صاحب ۔۔۔۔ ہم اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں ۔ اب آگے آپ جو حکم کریں ”
پیر کے دن میرے اسکول آجانا ۔ میں اپنے اسکول کے پرنسپل سے ملا دوں گا ۔ میرے کہنے پر وہ تم کو انٹرویو کے بغیر ہی جاب دیدیں گے ۔ ”
ہم نے خالد صاحب کا ہاتھ کسی مرشد کی طرح بڑی عقیدت سے چوما ۔ جس سے کسی مرغی کے سالن کی بُو آرہی تھی ۔ اور پیر کو حاضر ہونے کا وعدہ کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔
ابھی ہم اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے خالد نے آواز لگائی ۔
” ہاں ایک بات دھیان میں رکھنا ۔ ”
ہم ہمہ تن گوش ہوگئے ۔
” وہاں پرنسپل کی لڑکی بھی پڑھاتی ہے ۔ خبردار ۔۔۔۔ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا ۔وہ ہماری منظورِ نظر ہے ۔ ”
” جو حکم جناب ۔۔ بندہ اس طرف دیوارِ چین تعمیر کرلے گا ۔ آپ بےفکر رہیں ۔ ”
” میں بے فکر نہیں رہ سکتا کہ تم وہاں نازل ہو رہے ہو ۔ خیر بس اب دھیان رکھنا ۔ خدا حافظ ”
ہم سوچ میں پڑگئے کہ کوئی لڑکی خالد صاحب کی منظورِ نظر کیسے ہوگئی ۔ کیونکہ اگر وہ کسی مرد کی آنکھوں میں اپنی بیضوی آنکھوں سے دیکھ لیتے تھے تو وہ بھی چکرا جاتا تھا ۔ اور کسی صنف نازک کی آنکھوں میں براہ راست جھانکنے کا مطلب ، اس غریب کی بے ہوشی سے مشروط ہوتا تھا ۔ معاملہ یک طرفہ لگتا تھا ۔ مگر ہمیں اپنے معاملے کی فکر تھی ۔ لہذا ہم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
(جاری ہے )

( ضروری نوٹ : اس سلسلے کی تمام تحاریر میں نام ، مقامات ، ارشادات ، تصوارات ، اشارات سب فرضی اور تخیل کی پیداوار ہیں ۔ لہذا ان کا سلسلہ کسی کے حقیقی پس منظر سے جاملے تو ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔ آپ اپنی ذمہ داری پر یہ تحاریر پڑھ سکتے ہیں ۔ )

15 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

مقصد حیات

اگر نفسیاتی نکتہِ نظر سے دیکھا جائے تو مقصدِ حیات وہ مرکزی آرزو ہے ۔ جس کو ہم دوسری آرزؤں پر ترجیح دیتے ہیں ۔ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانیاں دینے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس کو پانے کے لیئے چٹانوں سے ٹکرانے اور مخالف موجوں سے مقابلے کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے بہت سے نوجوانوں کا شعوری مقصد ایک حد تک محدود ہو ۔ مثلا وہ ایک قابل اور کامیاب ڈاکٹر بننا چاہتے ہوں ۔ جس کا نام ہی علاج کی کامیابی کی ضمانت ہو ۔ یا نامور وکیل بننا چاہتے ہوں ۔ جس کو قانونی کو پیچیدگیاں سلجھانے کا فن آتا ہو ۔ لیکن ان تمام مقاصد کی رسائی اگر اعلی طبقے تک محدود ہو تو پھر مقصدِ حیات کو ایسی مادی خواہشات کی حدود میں قید کردینا ایک بہت بڑی زیادتی ہوگی ۔ زندگی کو محض آرام و آسائش تک محدود کردینا انسانیت کا نام نہیں ہے ۔ انسانیت تو اپنے ملک ، اپنی قوم ، اپنی دنیا میں سے ہر طرح کی جہالت کی تاریکیوں کو دور کردینے کا نام ہے ۔ کامیاب زندگی کا آغاز اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے جیسے دوسروں کی زندگیوں میں زندگی کی خوشیاں محسوس کرنے لگیں ۔ اور اسکی معراج پر پہنچنا ہی دراصل ہماری جیت ہے ۔

بحیثیت نوجوان ہمارے لیئے منزل کا تعین بہت ضروری ہے ۔ زندگی کی راہ میں آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں علم ہونا چاہیئے کہ ہمیں جانا کہاں ہے ، کیا ہماری کوئی منزل ہے ۔ یا ہم زندگی کے صحرا میں اس اُمید پر بے مقصد بھٹکتے رہیں گے کہ ایک دن ایسا موڑ بھی پیدا ہوگا جو ہمیں پھولوں کی وادیوں پہنچا دےگا ۔ زندگی کے دن پورے کرنا ، تھوڑا بہت کھا پی لینا ، دوستوں میں بیٹھ کر مذاق کرلینا ، رات آئی سو لینا ، تکلیف ہوئی رو لینا، زندگی کا مقصد تو نہیں ۔۔۔ ! اگر ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے تو ہم سراب کی شعبدہ بازیوں میں پھنسے رہیں گے ۔ انسان کا شعور ہی اس کی مقصدیت کا جواز پیدا کردیتا ہے ۔ لہذاٰ ہمیں اس خیال کا احساس شدت سے ہونا چاہیئے کہ میرا وجود دنیا میں بیکار نہیں ہے اور میری زندگی کا مقصد کسی منزل کا حصول ہے ۔ اور میری بھی اللہ کی اس کائنات میں بہت جگہ ہے ۔

کئی ایسے نوجوان بھی ہونگے ۔ جو زندگی میں مسلسل ناکامیوں سے بددل ہوں ۔ وہ اس فریب میں مبتلا ہیں کہ کامیابی سرے سے موجود ہی نہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کی راہیں پُرتاریک اور تنگ ہیں ۔ پُرخار اور بے رنگ ہیں ۔ ایسے لوگ معاشرے میں نیم مردہ اور نیم زندہ دونوں حالت میں اپنے آپ کو گھسیٹے ہوئے نظر‌آتے ہیں ۔ وہ جینے سے ڈرتے ہیں ۔ وہ اپنی زندگی کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔کیونکہ انہیں ہر وقت اپنی نااہلی اور ناکامی کاخدشہ رہتا تھا ۔ جبکہ ہمیں سچائی سے اس حقیقت کا سامنا کرنا چاہیئے کہ ہماری زیادہ تر مصبتیں دراصل ہماری نااہلیوں کی مرہونِ منت ہے ۔ جن کا ہماری قسمت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شکست کے بعد سب اپنی ناکامیوں کا سارا الزام اپنی قسمت کو تھوپ دیتے ہیں ۔ اور احساسِ شکست کو اللہ کی مرضی کہہ کر اپنے نفس کو مطمئن کرلیتے ہیں ۔ جب ہم سے ناکامیوں کے اسباب پوچھے جاتے ہیں تو بہت سے عُذر ہماری زبان سے رواں ہوتے ہیں ۔ ” مجھے کامیاب زندگی گذارنے کا موقع ہی کب ملا ” ، ” ماں باپ نے کسی اچھے اسکول میں مجھے تعلیم دلانے میں کبھی دلچسپی نہیں لی ” ، میرے پاس کوئی اچھی سفارش ہی نہیں تھی ” وغیرہ وغیرہ ۔ ان وجوہ میں خواہ کتنی سچائی نہ ہو مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے بے تحاشہ لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے اقتصادی الجھنوں میں مبتلا ہوکر ہم سے کم تعلیم حاصل کی ۔ لیکن وہ ہم سے بہتر زندگی گذار رہے ہیں ۔

دراصل اہمیت ان مواقع نہیں جو ہمیں ملے ۔ بلکہ سارا دارو مدار ان مواقع کا ہے جو ہم نے خود پیدا کیئے ۔دیکھنے کی بات یہ نہیں ہے کہ ہم نے زندگی کیسے شروع کی ۔ بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم کہاں سے کہاں تک پہنچے ۔ مانا کہ ہماری تعلیم کی کمی تھی ۔ اقتصادی دشواریاں گلے پڑی ہوئیں تھیں ۔ لیکن وہ وقت جو ہم نے اپنی قسمت پر آنسو بہانے میں صرف کیا ۔ وہ وقت مذید تعلیم حاصل کرنے یا مذید اپنی حالت سنوارنے میں استعمال بھی کرسکتے تھے ۔ مگر ہم نے اپنے آپ کو کاہلی اور احساسِ کمتری کی دلدل میں جوں کا توں پڑے رہنے دیا ۔ دراصل ہماری کامرانی کی راہ میں بدقستمی کی چٹانیں نہیں بلکہ خود ہماری کمزوریاں سدِ راہ بنتیں ہیں ۔ ہم کو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کو پہچانیں ، اپنی دماغی قوتوں کو کام میں لائیں ۔ اپنے جذباتی ہیجان پر قابو پائیں ۔ اپنی خواہشات اور خوابوں کو حقیقت بنانے میں جہدوجہد کریں ۔ بقول اقبال ۔۔۔۔۔

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

4 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

اے میرے دل کو توڑنے والے ( انورادھا )

کافی عرصے سے انورادھا کی آواز میں گائی ہوئی یہ غزل تلاش کررہا تھا ۔ بلآخر کامیابی نصیب ہوئی ۔ امید ہے سب کو پسند آئے گی ۔

تبصرہ کریں
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں

زندگی بڑی عجیب شے ہے ۔ انسان کبھی کسی چھوٹی سی چیز کو پانے کے لیئے مچل جاتا ہے مگر مجال ہے انسان کو وہ چیز میسر آجائے ۔ اور جب انسان تھوڑے پر قناعت کرنا چاہے تو پھر وہی حال ہوتا ہے جو چھپر پھاڑ کر ملنے پر ہوتا ہے کہ جو چھپر پھاڑ کرملا ہوتا ہے اس کے آدھے سے چھپر کی مرمت کرانی پڑتی ہے ۔ اور باقی آدھا پولیس والوں کو دینا پڑتا ہے اس لاکھ دہائی کے باوجود کہ بھائیوں ۔۔۔ میں نے ‌کہیں سے چوری نہیں کیا ہے بلکہ اوپر والے نے چھپر پھاڑ کردیا ہے ۔ بھلا آج کے زمانے میں‌ کون ان پرانی باتوں پر یقین کرتا ہے اور وہ بھی پولیس والے ۔

تو صاحبو ! قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمیں زندگی میں پہلا عشق ہوا ۔ یہ میڑک کے دور کی بات ہے ۔ ابھی اس عشق کو پروان چڑھے تقریباً ساڑھے تین دن ہی ہوئے تھے کہ اچانک ایک انکشاف یہ ہوا کہ کسی اور خاتون کو بھی ہم سے عشق ہوگیا ہے ۔ یہ وہ نکتہِ آغاز تھا جس کا سب سے پہلے ہم نے اپنی آپ بیتی میں ذکر کیا ۔ مجال ہے کہ آدمی کو عشق ہوجائے اور چلو ہو بھی جائے تو پھر چھپر پھاڑ کر ملنا اس نازک معاملے میں‌ کیا معنی رکھتا ہے ۔ پھر اس دو رخی عشق ( جسے دو رخی تلوار کہنا زیادہ مناسب رہے گا ) میں سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ جس سے ہم نے عشق کیا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے ۔ سو جب بھی دل کی بات کہنے کی کوشش کی تو معمر مستورات کا احترام جانے کیوں ہمارے زبان کی چاشنی بننے لگتا ۔ اور اُسے پھر ہم نے ہمیشہ باجی کہہ کر مخاطب کیا اور بعد میں کھسیا کر اپنی ادبی طبعیت کو کوستے ہوئے ٹائم وغیرہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔ متعدد بار کوشش کی کہ اپنی دل کی بات اس دل ُروبا کو کہہ دیں مگر زبان نے بھی گویا قسم کھا رکھی تھی کہ آپا اور باجی کے علاوہ منہ سے کچھ اور نہیں اُگلنا ۔ اگر کچھ اُگلا تو پھر پھینٹی لگنا مقدر بننا تھا کہ ضیاءالحق کا دور تھا اور اس زمانے میں ویسے بھی حقوق العباد کا جذبہ نوجوانوں میں بہت عام ہوا کرتا تھا ۔ جس کے نتیجے میں ہر بس اسٹاپ پر بس کے اگلے حصے سے ( جو خواتین کے لیئے مختص تھا ) وہاں ‌سے نوجوانوں کو برآمد کرکے ڈنڈوں اور گنوں سے تواضع کی جاتی تھی ۔ اس کارِ خیر میں نوجوانوں کیساتھ کچھ بزرگ بھی حصہ لیکر اپنی کھوئی ہوئی جوانی کی بھڑاس نکال لیا کرتے تھے ۔

اسی دوران دوسرے عشق کا سانحہ ہوگیا ۔ دوسرے عشق کا سانحہ پہلے عشق کے المیے کے بلکل برعکس تھا ۔ یعنی جس سے ہمیں عشق ہوا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے اور جسے اب ہم سے عشق ہوا ۔ وہ محترمہ ہمارے سامنے جوان ہوئیں ۔ پہلے عشق میں ہماری زبان آپا اور باجی کی چاشنی سے بھری ہوتی تھی اور دوسرے عشق میں زبان ، ِبیٹا رانی کہہ کہہ کر نہیں‌ تھکتی تھی ۔ بہت عرصے تک سر مارتے رہے کہ اپنی زبان کو لگام دیں مگر ہر کوشش بےسود ۔ بلآخر فیض کی اس نظم سے ہم نے اپنے دل کے بناسپتی گھی کے چراغ بجھائے کہ ۔۔۔

کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

خیر میڑک کا زمانہ گذر گیا ۔ چونکہ ہم اپنے دیگر دوستو کی طرح عشق کی اصل روح سے صحیح طور پر متعارف نہیں ہو سکے تھے اس لیئے کئی اچھے دوستوں کو میڑک میں‌ چھوڑ کر آگے کالج کی دنیا میں قدم رکھا ۔ دوستوں نے ہمیں بڑی لعنت ملامت کی کہ ہم ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر دوستو کی گریہ آوزری سے زیادہ ہمیں اپنے والدِ محترم کے اس چھتر کی فکر تھی ۔ جو انہوں نے صرف اس ارادے سے خریدا تھا کہ اگر ہم میڑک میں فیل ہوگئے تو ہماری پشت ہٹا کر یہ چھتر وہاں نصب کردیا جائے گا ۔

کالج کی دنیا ، ایک نئی دنیا تھی ۔ اسکول میں زیادہ محلہ دار یا آس پاس کے دوستوں کی بہتات تھی ۔ مگر کالج میں نئے چہرے تھے جن کا تعلق شہر کے مخلتف علاقوں سے تھا ۔ ہر چیز نئی تھی ۔ حتی کہ ہم خود کو بھی نئے نئے سے لگے ۔ اسکول میں اپنا خیال کیا رکھا ہوگا جو ہم نے کالج میں اپنے ناز اٹھائے۔ ہمارا کالج بوائز اینڈ گرلز تھا ۔ اور یوں لگتا تھا کہ جیسے سارے شہر کا حسن ، بس ہماری کلاس میں سما گیا ہے۔ ہماری کلاس میں یوں ‌تو کئی حیسن چہرے تھے ۔ مگر جس چہرے نے ہمیں متاثر کیا اس کا ذکر کرنا شامتِ اعمال کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا کہ وہ آج کل قومی اسمبلی کی ممبر ہیں ۔ اس کی آمد گویا آمدِ بہار ہوتی تھی اور لوگ اس کو چوری چھپے دیکھتے تھے ۔ مگر خدا کی قسم ۔۔۔ ہم نے اسےکبھی چوری چھپے نہیں دیکھا ۔ بلکہ جب بھی دیکھا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ۔ جس پر ایک دن ہمارے پروفیسر صاحب خفا ہوگئے اور کہا کہ کہاں دیکھ رہو ۔ شرم نہیں آتی کلاس میں بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرتے ہو ۔ ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا ۔۔۔ ” سر ۔۔۔ رات سوتے ہوئے گردن توڑ ہوگیا ہے اس لیئے گردن اپنے زوایے پر قائم نہیں رہی ۔ گردن موڑنے سے قاصر ہوں اگر آپ کہیں تو کلاس سے نکل جاتا ہوں ۔ مگر آپ جیسے قابل استاد کا لیکچر سننے سے محروم ہوجاؤں گا ۔ ” پروفیسر صاحب نے تاسف بھرے لہجے میں احیتاط کی ہدایت کی اور اپنے لیکچر میں مشغول ہوگئے اور ہم موصوفہ کو لیکچر کے دوران جی بھر دیکھتے رہے ۔

ٹکٹکی باندھ کر مسلسل دیکھنے سے ہمیں واقعی گردن توڑ ہوگیا ۔ اور ساتھ یہ خوف بھی غالب آگیا کہ اگر کسی دن موصوفہ نے اپنی کرسی بدل لی تو ہمارا کیا ہوگا ۔ اس عمل سے جہاں ہماری زرافے جیسی گردن پر اثر پڑا ۔۔۔ وہاں ہماری تعلیمی قابلیت کی والدِ محترم پر قلعی بھی کھل گئی ۔ انہوں نے اپنے خریدے ہوئے چھتر سے ہمارے وہ طبق روشن کیئے جس کا مڈیکل سائنس کی کتاب میں اب تک کوئی ذکر موجود نہیں ہے ۔ اس روایتی تشدد کے نتیجے میں ، گردن توڑ کے ساتھ مذید اتنے اور توڑ ہوئے کہ پھرظالم ڈاکٹروں نے وہاں ایسی مرہم پٹی کی کہ صرف ناک سے سانس لینے کا راستہ کُھلا چھوڑا ۔ اور جب ہم کرسی پر پلاسٹر اور پٹیوں میں جکڑے بیٹھے ہوئے ہوتے تو محلے کے بچے ہمیں حرکات و سکنات سے محروم دیکھ کر جھاڑو کے تنکوں سے ہماری ناک میں گدگدی کر کے ہمیں چھینک دلانے کی کوشش کرتے اور جب ہمیں چھینک آتی تو پلاسٹر کی وجہ سے جو کچھ جڑا ہوا ہوتا تھا وہ پلاسٹر کے کُھلنے کے بعد ٹوٹی ہوئی چائینا کی پلیٹوں کی طرح برآمد ہوجاتا ۔ جس پر ڈیوٹی بھی کوئی مقرر نہیں تھی ۔ اور ہم بے پیندہ لوٹے کی طرح سجدہ ریز ہوجاتے ۔اس خاص موقع پر گلی میں ہمارا کوئی دشمن اپنے اسٹیریو پر اقبال کا شعر بغیر کسی کمرشل کے ، حبیب ولی محمد کی آواز میں بار بار دھراتا :
” تیرا دل تو ہے صنم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں ”

ہماری شاندار تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے والد ِ محترم کے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ” لونڈا ۔۔ پڑھائی میں‌ دھیان نہیں دے رہا ہے تو اس کو کوچنگ سینڑ پر بٹھا دو ۔ ( ہمیں تو ایسا محسوس ہوا کہ کسی کوٹھے پر بٹھانے کی بات کہہ رہے ہیں ) والد صاحب نے بھی سوچا کہ صبح کالج ، شام ، کوچنگ سینٹر ۔ شاید کچھ پڑھ لے گا ۔

ابھی کوچنگ سینٹر میں دوسرا دن ہی ہوا تھا کہ اس پر نظر پڑ گئی ۔ کیا بلا کی سادگی تھی ، کیا سانولا پن تھا ۔ یعنی اوپر والے نے پھر چھپر پھاڑ کر دیا تھا ۔ صبح و شام کے اوقات آسان ہوگئے تھے ۔ کالج جاکر آنکھوں کو سیکنے کی خواہش صبح ہی صبح بیدار کردیتی تو والد صاحب بڑی حیرت سے دیکھتے اور پوچھتے کیوں خیریت ۔۔۔ ! اتنی صبح کیسے اٹھ گئے۔ ؟ کیا دودھ لینے جانا ہے ۔؟ ” اور شام کو ڈوبتے سورج جیسی شفق کو قریب سے دیکھنے کی خواہش بغیر کسی کاہلی کا مظاہرہ کیے ، کوچنگ سینٹر لے جاتی تھی ۔ دونوں جگہ وقت کی پابندی اور تعلیم میں دلچسپی اس بات کا مظہر تھی کہ میں عنقریب کراچی میں ٹاپ کرنے والا ہوں ( یہ میرے والدِ محترم کا نکتہِ نظر تھا ) ۔

ایک طرف کسی کے حسن سے ہم بے حال تھے تو دوسری طرف کسی کے سانولے پن اور سادگی نے ہماری دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کیا ہوا تھا ۔ کسی طور دل کو قرار نہ تھا ۔ لگتا تھا کہ یہ اسی فقیر کی بدعا کا نتیجہ ہے جس کی لُنگی میں ایک دفعہ بچپن میں ہم نے پٹاخہ باندھ دیا تھا ۔ اور پھر اس نے دھوتی اٹھا کر جو بدعا دی تھی اس کا تذکرہ کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا ۔ سو پہلے بھی ہم بیک وقت دو عشقِ بُتاں میں‌ گرفتار ہوئے ۔مگر فیض کے اشارے پر دونوں‌کو ادھورا چھوڑنا پڑا ۔ اب پھر وہی معرکہ آن پڑا تھا ۔ ادھر جائیں تو دل ہاتھ سے نکلتا تھا ۔ اُدھر جائیں‌ تو جگر پیٹنے کا جی کرتا تھا ۔ عجب کشمکش کا عالم تھا ۔ اب فیض بھی نہیں‌ رہے تھے کہ ان سے کوئی دوسری نظم لکھوا لیتے ۔ اچانک ہمیں اپنے بہت ہی قریبی دوست خالد کا خیال آیا ۔ جو ہمارے ساتھ کالج میں‌ تو پڑھتے ہی تھے مگر ساتھ ساتھ وہ اتنے ذہین تھے کہ ایک پیرائیوٹ اسکول میں نویں اور دسویں جماعت کو بھی پڑھایا کرتے تھے ۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ ان کی ذہانت ہمارا کوئی ” ایک عشق ” متعین کردے گی ۔
( جاری ہے )

24 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

اے ابرِ کرم آج اتنا ” نہ ” برس ۔۔۔

آج جیو ٹی وی دیکھتے ہوئے یہ خبر نظر سے گذری کہ کراچی میں‌ موسلادار بارش ہوئی ۔ اور پھر اس خبر کیساتھ ٹی وی کی اسکرین پر مناظر بھی پانی کی مانند بہنے لگے ۔ پانی میں ڈوبی ہوئی سڑکیں دریا کا منظر پیش کرتیں نظر آئیں ، کچھ لوگ اپنی موٹر سائیکلوں کو پانی میں گھسیٹتے ہوئے اور دانت بھینچتے ہوئے اور کچھ لوگ بارش سے لطف اندوز ہوتے بھی نظر آئے ۔ گو کہ کراچی میں بارانِ رحمت اکثر زحمت بن جاتی ہے ۔ مگر سمندر کے لب پر آباد شہر اکثر بارشوں سے محروم رہتا ہے ۔ سامنے سمندر سے بادلوں کا ایک بگولہ سا اٹھتا ہے ۔ اور پھر بہت بلندی پر پرواز کرتا ، اہلِ کراچی کو ترساتا ہوا معلوم نہیں اکثر کہاں نکل جاتا ہے ۔ کبھی سالوں بعد انہیں واپسی کا راستہ یاد آتا ہے تو اپنے ساتھ اتنا پیار لاتا ہے کہ سٹی ناظم کو یہ اعلان کرنا پڑجاتا ہے کہ جو شہری جہاں ہے ، وہیں رہے ورنہ وہ اس پیار کی تاب نہیں لاسکے گا ۔

کراچی شہر جہاں نکاسی کا اتنا خاص انتظام نہیں ہے ۔ وہاں اتنی بارش کیا معنی رکھتی ہے ۔ سنا ہے کہ ایک دفعہ ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں خوب بارش ہوئی تھی ۔ چنانچہ انہوں نے نالوں کا رواج متعارف کرادیا ۔ اس زمانے کے شعراء دل کی بھڑاس نکالنے کی جگہ سمجھ کر وہاں بہت عرصے نالہ و فریاد کرتے رہے ( خیر وہ ایک الگ موضوع ہے ) حسبِ معمول کافی عرصے جب کراچی میں‌بارشیں نہ ہوئیں تو کچھ لوگوں نے ان نالوں‌ پر لکڑیوں کے لمبے پٹرے ڈال کر انہیں قابلِ عبور بنادیا ۔ خشک نالوں پر اس طرح کی سول انجئیرنگ کا مظاہرہ کچھ لوگوں کی سمجھ نہیں آیا مگر کچھ دنوں بعد یہ لکڑی کے پٹرے پان کے کھوکھے بن گئے تو یہ قلعی کھلی کہ دراصل یہ لکڑی کے پٹرے نالے کے پار نہیں بلکہ مستقبل کی طرف سفر کے ضامن تھے ۔ خیر وہ نالے جو کبھی خشک سالی کا شکار تھے وہاں اب پان کے شیدائیوں کا جھمگٹا رہنے لگا ۔ ان نالوں کے اوپر کھوکوں میں پان تو بکتے ہی تھے مگر منی بیگم اور عطاءاللہ خان عیسی خیلوی کی غزلوں و گیتوں کی کیسٹوں کا وافر خزانہ بھی تقریباً ہر پان والے کے کھوکھے پر موجود ہوتا تھا اور ہر پان بیچنے والا ، عطاء اللہ کی تکلیف زدہ آواز ۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ دکھ بھری آواز میں ‌کوئی غزل اونچی صدا میں لگا کر گاہگوں کو متوجہ کرتا تھا ۔ اگر خریدار کوئی دل جلا نکل آتا تو وہ عطاءاللہ کی پوری کیسٹ سنے بغیر وہاں سے ٹلتا نہیں تھا مگر اس کے ساتھ وہ اتنے پان بھی کھا جاتا کہ بدن سے زیادہ لہو اس کے زبان میں ‌نمودار ہوجاتاتھا ۔ جس کی وجہ سے اکثر نالوں کی دیواروں پر مائیکل اینجلو اور پکاسو سے زیادہ نایاب آرٹ کے شاہکار اپنی زبوں حالی اور زمانے کی نظراندازی کا شکوہ کرتے نظرآتے تھے ۔ پان کے ان کھوکھوں کی بدولت نالوں کے نیچے ایک دنیا اور بھی آباد ہوگئی تھی جہاں سارا دن ہیروئنچی پڑے رہتے ۔ اور کبھی کبھی کوئی ہیرونچی نیچے سے ہی عطاءاللہ کے کسی دل جلے نغمے پر داد دیتے ہوئے نعرہِ مستانہ لگاتا کہ ” چرسی ۔۔ کبھی نہ مر سی ۔۔ ”

خیر یہ بہت پرانی باتیں ہیں ۔ موجودہ دور میں بارشوں کے لیئے اب ٹھیکدار دعائیں مانگتے ہیں‌۔ ٹھیکداروں کا سب سے نقصان ہی کراچی میں‌ ہوتا ہے ۔ جہاں ‌بارشیں خواب ِ گمشدہ بن جاتیں ہیں‌۔ لہذا نہ کوئی سڑک دریا بنتی ہے اور نہ ہی کوئی پُل رکوع میں‌ چلاجاتا ہے ۔ سنا ہے رہی سہی کسر سٹی ناظم نے پوری کردی ہے جو ہاتھ میں ترازو لیکر سمینٹ اور ریت کا تناسب چیک کرتا ہے ۔ اب ٹھیکدار دن کو ٹھیکداری کرتے ہیں ۔ اور رات کو کسی کے بنگلے پر چوکیداری ۔

بات شروع ہوئی تھی جیو ٹی وی کے حوالے سے ۔۔۔۔ اسکرین پر جو مناظر دیکھے تو اپنے دور کی بارش کا ایک منظر آنکھوں‌کے سامنے لہرا گیا ۔ بارش کے دوران ہم نے اپنی گاڑی کے آگے ایک موٹر سائیکل سوار کو بارش میں ڈوبی ہوئی سڑک کے عین بیچ میں غائب ہوتے ہوئے دیکھا ۔ ابھی ہم اسی سوچ میں‌گُم تھے کہ کس دیوار پر اس جادو والے بابا کے اشتہار کا کھوج لگا کر اپنی قسمت کا حال معلوم کریں کہ ہمارے ڈرائیور کی چیخ و پکار نے ہماری توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ جلدی آیئے اور موٹر سائیکل والے کو مین ہول میں سے نکالنے میں میری مدد کجیئے ۔

سنا تھا کہ بارشوں سے طبعیت میں رومانیت بھی میسر آجاتی ہے ۔ ہلکی ہلکی پھوار عجیب سی لطافت کا احساس دیتی ہے ۔ بارش میں تیز ہواؤں کے زد میں آکر گیلے پتے جب سرسراتے ہیں تو گویا دل کے تار بھی ساتھ بجنے لگتے ہیں ۔ ہم نے اس کلیے پر عمل کرتے ہوئے اپنے دل کے تاروں کو بارش کی پھوار میں چھیڑنے کی کوشش کی تو سب سے پہلےفلو کاشکار ہوکر آغا خان ہسپتال کے شعبہ ایمرجینسی میں پہنچے ۔ جہاں ڈاکٹر حسن آفندی کا بل ہاتھ میں آیا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اس رقم سے کم از کم دو شادیوں کے اخراجات تو باآسانی اٹھائے جا سکتے تھے ۔ جو دل کے تار چھیڑنے کی خواہش میں نذر ہوگئی ۔ اس کے بعد سے ہم رومانیت سے تائب ہیں ۔صرف براہ راست شادی کی افادیت پر ایمان رکھتے ہیں ۔

10 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

تاریخِ پاکستان پر ایک نظر

قدیم یونان سے جدید دور تک انسان نے جو تجربات کیئے ہیں وہ ریاست سے متعلق ان کی کسی نظریات کی مختلف صورتوں میں نمود اور اظہار ہے ۔ ظاہر ہے مسلمان معاشرے بھی ان بحثوں سے خالی نہیں رہے ہیں کہ مسلمانوں کے نظریے اور ان کی ریاست کا باہمی تعلق کیا ہونا چاہیئے ۔ اور مسلمان اس تعلق کو کس طرح دورِ جدید میں نبھاتے ہیں ۔؟ ۔ کیا کسی ریاست کو کسی نظریے کا تابع ہونا چاہیئے ۔ ؟ انسان کا جو فطری سفر ہے اس میں کیا کوئی نظریہ ایسا ہے جو ریاست کی تکمیل میں ناگزیر ہو ۔ ؟

ریاست سوسائٹی کا ایک ناگزیر ادارہ ہے ۔ معاشرہ جن اقدار پر قائم ہے یا قائم رہنا چاہتا ہے ۔ ریاست ان اقدار کی استواری کے بہت ضروری وسائل فراہم کرتی ہے ۔ لہذا ریاست اسی نظریہ حیات یا اسی نظامِ اقدار کا ایک فعال عنصر ہوگی ۔ جس نظریے پر معاشرہ قائم ہے ۔ انسانوں میں ہیتِ اجتماعی وحدت اور ایک بامقصد یکسوئی ہمیشہ بامعنی ہوتی ہے ۔ یعنی کلچرل اقدار کو واجب العمل بنانا اور کلچر اساس کے ساتھ معاشرے کے تعلق کی تمام سطحوں کو بامعنی بنانا ، Protective بنانا ۔

یہ معاشرے کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کو معاشرہ اپنے اندر موجود معاشرتی قوت سے پورا نہیں کرسکتا ۔ ۔ لہذا معاشرے کی اس ضرروت کی تکمیل کے لیئے ریاست کا ادارہ وجود میں آتا ہے جو کہ معاشرتی کُل کا ایک جُز ہے ۔
ریاست میں فوری فلاح پیدا کرنے کی قوت ہوتی ہے ۔ معاشرے کی ترکیبِ ہیت ہی ایسی ہوتی ہے یا انسانی اجتماعیت کے بعض اصول ایسے ہوتے ہیں کہ وہ فلاح کو اخلاقی معنی سے منقطع کرکے قبول نہیں کر سکتی ۔ معاشرہ اپنی ایک اخلاقی بناوٹ اور ایک اخلاقی تقاضا بھی رکھتا ہے ۔ اور ان پر پورا اترنے کے لیئے اُسے ریاست کی فیصلہ کن مدد کی ضرروت ہوتی ہے ۔ انسان میں فلاح کا تصور چیزوں کی افراط نہیں ہے ۔

نظریہ کوئی ریاستی قانون نہیں ہوتا ۔ نظریہ ایک معاشرتی حقیقت ہے ۔ یعنی معاشرہ نظریہ کو آئیڈلائز کرتا ہے ۔ اور ریاست اس کو ایکچولائز کرتی ہے ۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ معاشرے کے آئیڈلز کو عمل میں لانے کے موثر اسباب پیدا کرے ۔ انسانوں کی اجتماعیت کے اندر کوئی بھی نظریہ ایک لمحہ کے لیئے بھی پنپ نہیں سکتا جو اُس معاشرے میں موجود تنوع یا تضاد کو اپنے اندر سے خارج کردے ۔ ریاست کا نظریاتی کردار یہ ہے کہ اگر نظریہ تنوع کو قبول نہیں کرتا تو وہ انسانوں کے لیئے نہیں ہے ۔ ریاست نظریے کی آئیڈل حدوں کو متاثر نہیں کرتی ۔ اور اس کے بغیر انسان میں اجتماعیت کا کوئی بھی تصور خواہ وہ معاشرتی ہو ، ریاستی ہو کسی بھی سطح پر آج تک قائم نہیں ہوا ۔

ہر ریاست اور ہر معاشرے میں اپنے بنیادی نظریات کے خلاف قوتوں کو روکنے کا اپنا اپنا ایک مختلف نظام موجود ہے ۔ اور یہ نظام مغرب میں بھی موجود ہے اور بہت شدت کے ساتھ موجود ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی Theory Of Revolution کی تردید کے لیئے ” سرکاری سطح ” پر اجازت طلب کرے گا تو اس کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ہاں شاید Big Bang کے خلاف اجازت مل جائے اور اسی طرح جہموریت کے خلاف آپ نہیں جاسکتے ۔ تو ایسا نظام انسانی اجتماعیت کو انتشار سے بچانے کے لیئے معاون ثابت ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر میرا محدود نظریہ نہیں ہے تو میرا ہر نظریہ انتشار پر ختم ہوگا ۔ اور کسی معونیت کی تشکیل نہیں کر پائے گا ۔

ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ریاست اور نظریے کے تعلق میں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے ریاست اور نظریہ کا جو بنیادی تعلق ہے وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں قانون بھی بنے گا ۔ ناکہ قانون سازی کے ذریعے وہ ریاست یا سوسائٹی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے ۔

انیسویں صدی کو مغرب میں ایج آف آئیڈلوجی کہا جاتا ہے ۔ بڑے بڑے مفکرین جنہوں نے مغرب کو متاثر کیا وہ اسی صدی میں پیدا ہوئے ۔ بیسویں صدی کو اگر ہم دیکھیں تو اسلامی فکر اس صدی میں نمایاں ہے اور اسی اعتبار سے ہم اسے ایج آف آئیدلوجی کہہ سکتے ہیں ۔ مسلمان مفکرین دنیا بھر میں پیدا ہوئے اور خاص طور پر اجتماعیت کی تشکیل کی ضمن میں اسلامی فکر ارتقاء کے بہت سے مراحل سے گذری ۔ اس دوران نظریے اور سیاست کا بنیادی تعلق مسلمان معاشروں میں بہت شدت کے ساتھ زیرِ بحث آیا ۔ اور مسلم اہلِ علم نے اس پر بہت قابلِ قدر کام کیا ۔ عملاً بھی ہم نے بیسویں صدی میں بہت سے تجربات کیئے ۔ اور آج بھی ہم اس نوعیت کے مباحث کا سامنا کرتے ہیں ۔ جن سے ہم گذر رہے ہیں کہ ایک ریاست کی تشکیل میں ایک نظریے کا بنیادی کردار کیا ہے ۔ اور جب مسلمان معاشرہ ایک ریاست بناتا ہے تو اس کے خدوخال کیا ہونے چاہئیں ۔
جب ہم ریاست اور نظریے کے باہمی تعلق کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اس میں ضمن میں جو تجربہ بیسویں صدی میں سویت یونین کی شکل میں ہمارے سامنے ہوا ۔ اس کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سویت یونین کی ناکامی کی اصل وجہ نظریہ کی بنیاد ہے ۔ اور یہ کہ بھی نظریے اور ریاست کو باہم مجتمع رکھنے کا بھی ایک ناگزیر نتیجہ ہے ۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔سویت یونین کی ناکامی کا سبب ان کے نظریے میں نہیں ہے بلکہ نظریے کو معاشرتی قدر بنانے میں ہے ۔ انہوں نے فلاح کو آزادی کے ساتھ جمع کرنے میں ناکامی حاصل کی ۔انہوں نے بہت سے بنیادی انسانی حقوق کو نظرانداز کیا ۔ جن کے بغیر انسانی زندگی کا گذارہ ناممکن ہے ۔ مثال کے طور جیسے آزادی چاہے وہ ڈسپلن آزادی ہو لیکن اس آزادی کو اگر کوئی نظریہ اپنی حالتِ نفاذ میں فراہم نہیں کرتا تو وہ نظریہ اس معاشرے میں اپنی موجودگی کو زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ تو سویت یونین کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے کہ انہوں نے نظریے کو جبر بنا دیا ۔ اگرچہ انہوں نے فلاحی ریاست بنانے میں غالباً جدید دنیا میں پہلی کامیابی حاصل کی ۔ اس کے علاوہ ترقی یعنی ریاست کے مضبوط ہونے اور ترقی یافتہ ہونے کے بعض جو مظاہر ہیں اس میں بھی سویت یونین نے Capitalist West سے پنجہ کشی کر کے دکھائی اور بہت سے اُمور مثلاً سائنس اور ٹیکنالوجی میں اگر ویسٹ سےآگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں رہے ۔ اسی طرح طاقت جو ریاست کا ایک بڑا ستون ہے اس کی فراہمی میں بھی وہ ناکام نہیں رہے ۔ میرے خیال میں سویت یونین کی ناکامی کی بنیادی وجوہات یہ ہیں ۔

وہ نظریے کو نظریہِ راحت نہ بنا سکے بلکہ انہوں نے نظریے کو جبر بنا دیا ۔
۔ ان کا نظریہ ریاستی اصطلاح میں ایک مفہوم پانے کے باوجود اپنے اہل ترجمانوں سے محروم رہا ۔
۔ ہر نظریہ اپنے ساتھ اختلاف رکھنے کا حق دیتا ہے ایک میدان فراہم کرتا ہے مگر انہوں نے اس کو بھی ختم کردیا ۔
۔ وہ جس شیطانی نظام (Capitalism ) سے لڑ رہے تھے ۔ جو بلاشبہ مذہبی اور انسانی دونوں اصطلاح میں شیطانی نظام ہے ۔ انہوں نے اس نظام کو اپنے عوام کے لیئے پُرکشش بنا دیا ۔

مگر یہ ان کی نظریاتی ناکامی نہیں ہے ۔ ریاست نظریہ پر منحصر نہیں ہے ۔ ریاست ایک عارضی ادارہ ہے ۔ ان کا نظریہ اپنی موجودگی کے عالمی مظاہر رکھتا ہے ۔ حتیٰ کہ Capitalist west کے شوشل نظام میں بہت ساری ترمیمیں نہ آتیں اگر کارل مارکس نہیں ہوتا ۔

Capitalism Society بھی ایک نظریے پر کھڑی ہے ۔ لیکن اس نے صلاحیت کا ایک یہ مظاہرہ کیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر تبدیلیوں کو بھی جگہ دی یعنی اس طرح اس نظریے نے ایک ارتقاء کا مظاہرہ کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ نظریہ بنیادی طور پر مستقل نوعیت کی چیز نہیں ہے ۔ بلکہ وقت کے ساتھ وہ بدلتا رہتا ہے بلکہ بدلنا بھی چاہیئے ۔ اگر کوئی آئیڈیل ریاست ہے تو اس کا یہ فرض ہوگا کہ نفع حاصل کرنے کی جو بھی انفرادی خواہشیں ہیں اس کی اجتماعیت کے ساتھ ایسی مطابقت پیدا کرے کہ انفرادی حدودوں کوکوئی نقصان نہ پہنچے ۔

پاکستان کے حوالے سے جب ہم بات کرتے ہیں تو پاکستان کا نظریہ جس کی بنیاد ہی جمہوریت پر تھی ۔ جو برو ئے کار ہی جمہوری عمل کے ذریعے سے آیا اور ہم نے اس کو ایک آئینی شکل دی ۔ جس کا مقصد ہماری اجتماعی صورت گری کرنا ہے تو اس میں ہماری جمہوریت اور سیاسی آزادیاں کی اہمیت ایک بنیادی جُز بن گئیں ۔ قراردادِ مقاصد میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ وہ اقدار کے ہیں کہ وہ جو پاکستان کے رہنے والے ہیں ان کی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کر سکیں ۔

پاکستان ایک جہموری تجربہ ہے ۔ جمہوریت میں جو منبع ِ اختیار ہے وہ عوام ہیں ۔ جبکہ اسلامی نظام میں وہ اختیار ایک الہامی ہدایت ہے ۔ تو کیا ایک اسلامی ریاست میں ایک جمہوری ریاست بن سکتی ہے ۔ ؟ جب ایک اسلامی معاشرے میں ہم نفاذِ اسلام کی بات کرتے ہیں یا اسلام کے قانونی نفاذ کے تناظر ہم ریاست لانا چاہتے ہیں تو کیا اس عمل کے نتیجے میں جبر وجود نہیں آئے گا جو اس کے ارتقاء کے نتیجے میں اثرانداز ہوگا ۔؟

اس حوالے سے دراصل اب ہم کو دو قومی نظریے کی تفہیمِ نو کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جس طرح ہم نے 1947 میں دو قومی نظریئے کوDefined کیا تھا مگر اب ہم پاکستان بننے کے بعد اس طرح سے ڈیفائن نہیں کر پائیں گے ۔ دو قومی نظریہ اب کوئی ریفرینس رہ نہیں گیا ہے ۔ دو قومی نظریہ آزادی کا سبب بنا تھا اب آزادی کے بعد ہمیں ایک نئی سوشل تھیوری بنانی چاہیئے ۔ اب دو قومی نظریہ ہماری سوشل تھیوری نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ دو قومی نظریئے اگر اب کہیں سے اٹھے گا تو وہ اقلیتیوں کی جانب سے اٹھے گا ۔ دو قومی نظریہ ہمارا بحثیت اقلیت کے ایک سیاسی اور مذہبی موقف تھا۔ جو ہم نے بخیرو خووبی حاصل کر لیا ۔

جب ہم پاکستان میں نفاذِ اسلام کی بات کرتے ہیں ، نظریئے اور ریاست کے بنیادی تعلق کے حوالے سے تو عام طور پر ہم کچھ قوانین کے نفاذ کی بات کرتے ہیں ۔ اگر آج ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک اسلامی ریاست بنے تو پہلے وہ اقدار پیدا کیئے جائیں ۔ جس کے نتیجے میں اسلامی ریاست وجود میں آئے ۔کیونکہ ریاست معاشرے کا ایک فعال عنصر ہے مگر اصولی بات یہ ہے کہ معاشرہ ریاست کو پیدا کرتا ہے ۔ معاشرہ بیمار ہے تو ریاست بیمار ہے اور اگر معاشرہ صحت مند ہے تو ریاست صحت مند ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ ایک غلط فہمی جو ریاستی اور معاشرتی پر تنقید کرتے ہوئے پیدا ہوجاتی ہے کہ نظریہ ایک مستقل آئیڈل ہے جس کی Actualisation کبھی کامل نہیں ہوسکتی ۔ یعنی کامل معاشرہ وہیں ہوگا جس کے افراد کامل ہونگے ۔ ایسے معاشرے کا وجود محال ہے ۔ اور نہ ہی یہ کسی نظریے کا متحمل ِ نظر ہے ۔ یعنی کامل اور بلانقص معاشرہ پیدا کرنا ۔ ہمارے ساتھ جو مشکل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے آئیڈل کی طرف جو پیش قدمی کرتے ہیں وہ عملی سے زیادہ خیالی ہے ۔ اگر اس میں ترتیب قائم کرنا ناگزیر ہوجائے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دین Systematized ہونے نہیں بلکہ Culturized ہونے آیا ہے ۔ اس کی اصل شکل Culturized اصطلاح میں ہے ، organiztion set up میں نہیں ہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ سیاسی یا معاشی نظام ہے تو یہ تصور غلط ہے ۔ کیونکہ جب ہم ریاست کی بات کریں گے تو ریاست ایک Intentity organiztion ہے ۔ تو دین اپنی آخری manifestation. کو organiztion نہیں رکھتا ۔
دین میں مطلوبہ manifestation. کلچرل ہے ۔ Civilisational ہے ۔ اور ہم اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔

نظریہ ایک مستقل چیز ہے اور ریاست اس کوAcheaved کرتی ہے نظریہ ایک مستقل قدر ہے جو ہر دور میں باقی رہتا ہے ۔
Metanarrative ہر معاشرہ رکھتی ہے کوئی بھی ریاست جو اس معاشرے میں قائم ہوگی ۔ وہ اس Metanarrative کے خلاف نہیں جاسکتی ۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ Metanarrative اپنا ذاتی مظاہر بھی رکھتا ہے کہ نہیں اور ایسا بھی انسانی دنیا میں ہونا ناممکن ہے کہ معاشرے کی کوئی قدرِ اعلیٰ اس معاشرے میں بسنے والے تمام افراد پر عائد اور وارد ہوسکے ۔ ان دو چیزوں میں فرق ہونا چاہیئے ۔ ایک تو یہی کہ ایک نظریاتی قوت جو ریاست کی ہے ۔ وہ اس نظریے سے مناسبت نہ رکھنے والے مظاہر کی آیباری میں بھی استعمال ہونی چاہیئے ۔ اگر ہم نظریے کو صرف قانون کے معنی لیں گے تو ہم یہ ہدف حاصل نہیں کرسکتے ۔ میری نظریاتی قوت ایک ریاست کی حیثیت اس اس شخص کی آیباری میں بھی اس کی فلاح کے لیئے صرف ہونی چاہیئے جو میری نظریاتی اساس سے متصادم یا ایک مختلف ر خ کھڑا ہے ۔ اس کو جدید اصطلاح میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ :
” انسانی معاشرہ کلچر اور اسٹیٹ دونوں سطحوں پر حتیٰ کہ ذاتی سطح پر بھی Metanarrative سے خالی نہیں ہوتا ۔ اور Metanarrative کی تشکیل ہی استقلال کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ اگر وہ مستقل ہوتا ہے تو رہے گا ورنہ اپنی جگہ چھوڑ جائے گا ۔”
مسلم معاشرہ اور مسلم ریاست کا جو تعلق ہے وہ غالباً ایک آئیڈل سطح پر کوئی چیز اگر Actualized ہوسکتی ہے ۔ تو وہ ہم مسلمانوں نے صدیوں Acheaved کر کے اور نافذ کر کے یعنی معاشرتی اصطلاح میں موجود رکھ کر دکھایا ہے ۔ ہمارا جو معاشرتی ڈھانچہ تھا کہ ایک طرف دربار ، ایک طرف خانقاہ ایک طرف مدارس اور ایک طرف عوام ہیں ۔ ہم نے ان کے درمیان ایک قابلِ عمل Blend دریافت کر کے دکھایا ہے ۔ جو آئیڈیل نہ سہی مگر Social Activities کے قیام کے لیئے ضروری ہوتی ہے ۔
ہم ریاست کے حوالے سے پاکستان کی طرف آتے ہیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ ریاست کی جو ذمہ داری ہے اس کا تعلق قانون کے نفاذ سے ہے ۔قانون سازی سے ہے ۔ ہم نے قانون سازی کا جوعمل کیا مثلاً حدودِ نفاذ کے لیئے پارلمینٹ نے جو بل منظور کیا وہ کم بیش ہر مذہبی جماعت نے ماننے سے انکار کردیا ۔ قانون سازی کا عمل ایک حقیقی ریاست کے بغیر ناممکن ہے اور ہم ویسے بھی ابھی تک حقیقی پارلیمنٹ بنانے میں ہی کامیاب نہیں سکے ہیں ۔ یہ بات واضع ہونی چاہیئے کہ اسلام قانون کا نام نہیں ہے ۔ یعنی اگر آپ یہ کہیں کہ کسی چور کے ہاتھ کاٹنے ہیں ، کسی شرابی کو کوڑے مارنے ہیں یا زانی کو یہ سزائیں دینی ہیں تو اسلام نافذ ہوگیا ۔ یعنی کسی مجموعہِ تعزیرات کا نفاذ اسلا م کا نفاذ نہیں ہے ۔ اسلام اس سے بھی بہت اعلیٰ و ارفع چیز ہے ۔ اصل چیز ہے ایک کلچر اور اقدار پیدا کرنا ہے ۔اور ہم نے دین کی جو تعبیر دی ہے اس میں ایک نظام اور قانون کی شکل میں پیش کیا ۔ اس سے نقصان یہ ہو کہ ہم وہ اقدار پیدا نہیں کر سکے لیکن وہ قانون بھی وہ نتائج نہیں دیکھ سکا جو معاشرے کی تشکیل میں دکھانے چاہیں ۔

جب ایک معاشرہ ایک ریاست کو تخلیق کرتا ہے تو اس ریاست کی بنیاد کسی نظریے پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اور پھر اسی طرح بتدریج نظریہ کی افادیت اور پھر اس نظریہ کو کسی ریاست پر لاگو کرکے کسی معاشرے کی معاشی ، مذہبی اور معاشرتی حالت میں جو تبدیلیاں ناگزیر ہوتی ہیں ۔

چونکہ موضوع کا اصل ماخذ پاکستان ہے ۔ اس لیئے اس مضمون کے دوسرے حصے میں چاہوں گا کہ ہم پاکستان کے حوالے سے بات کریں ۔ اور نظریہ کی اساس کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیں ۔اور یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ جس نظریہ کو بنیاد بنا کر پاکستان حاصل کیا گیا ۔ اور جس نظریے نے قیامِ پاکستان سے قبل اس خطے کے لوگوں کو مجتمع رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وہ نظریہ پاکستان کے بننے کے بعد لوگوں کی تقسیم در تقسیم کو کیوں باعث بنا ۔؟

قوم وطن سے بنتی ہے یا نظریے سے ۔ ؟

70 ، 80 سال قبل جب مسلمانانِ ہند کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی اکثریت نے نظریے کے حق میں فیصلہ دیا ۔ اور اس کے بعد پاکستان ایک نظریاتی مملکت بن کر وجود میں آیا ۔ لیکن ایک عجیب بات ہے کہ گذشتہ 60 سالوں کی تاریخ کوئی اور ہی داستان سناتی ہے ۔ 60 سال پہلے اس خطے کے لوگوں کو ایک نظریہ مجتمع کرنے کا باعث بنا۔ مگر بعد میں نظریے کی ہی بنیاد پر یہاں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوگیا ۔ اسلام اور سوشلزم کی بحث ، اسلام اور کمیونزم کی بحث اور اب اعتدال پسندی یا روشن خیال اور انتہا پسندی ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نظریے کے چکر میں ایسے اُلجھے ہیں کہ قوم کے اندر polarization کا عمل بڑھتا چلا جارہا ہے ۔

نظریہ قوموں کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے ۔ اور قوم میں وحدت پیدا کرنے کلے لیئے اس کا کیا کردار ہونا چاہیئے ۔ اور ہمارے ہاں گذشتہ 60 سالوں میں جو تجربات ہوئے ہیں وہ ہمیں کیا سبق دیتے ہیں ۔ ہم نے ٹھیک طرح سے نظریے کو سمجھا نہیں ہے یا اس کو بات کو ہمیں سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے کہ قوموں کو مجتمع رکھنے کے لیئے اساس اور بنیاد کیا ہونی چاہیئے ۔ ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو شاید ہم میں سے کئی کے ذہنوں میں گردش کرتے ہوں ۔ انہی سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پاکستان کے سیاسی اور تاریخی پس منظر پر سرسری طور سے نظر ڈالتے ہیں ۔

قومی ریاست کا ایک تصور ہوتا ہے اور اسی تصور کے تحت ہم پاکستان کو بھی ایک Nation States کہتے ہیں ۔ اور جب Nation States بنتی ہے تو اس کی بنیاد ہمیشہ Nationalism پر ہوتی ہے ۔ یعنی اس خطے میں جو بھی لوگ بستے ہیں وہ اس ریاست کے شہری ہیں اور ان کےحقوق مساوی ہیں ۔ لیکن جب Nation States کو مذہب کی بنیاد پر بنائیں گے تو وہاں یہ مسئلہ آجاتا ہے کہ جو بھی ایک مذہب کو ماننے والے ہیں وہ تو ایک قوم ہوگئے ۔ مگر دوسرے جو کسی اور مذہب کے پیروکار ہیں وہ اس Nation States کے دائرے سے باہر ہوگئے ۔ اور اس طرح سے ان کی حیثیت اس ریاست میں ایک ثانوی شہری کی ہوگئی ۔ اور وہ ان حقوق سے محروم ہوگئے جو ایک مذہب کے ماننے والوں کو میسر ہیں ۔ لہذا اس دورِ جدید کی اصطلاح میں یعنی جمہوری دور میں اس عمل سے مشکلات سامنے آجاتیں ہیں کئی طرح کے مسائل جنم لے لیتے ہیں ۔

پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ جب ہم نے اسے مذہبی نیشلزم کے تحت مذہبی ریاست کیا اور اس کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی تو مسلمانوں کے علاوہ یہاں جو دوسرے مذہب کے ماننے والے تھے ۔ ان کو ایک طرح سے ہم نے قومیت سے باہر نکال دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مضبوطی اور اتحاد کا سرچشمہ ہونے کے برعکس کمزوری اور انتشار کا شکار ہوگئے ۔ ایک قوم کی علاقائی بنیاد پر جو تشکیل ہونی تھی وہ نہیں ہو سکی اور اس نے آگے چل کر بہت سے اور مسائل پیدا کیئے ۔

اس حوالے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اس نظریے کی جو افادیت اور اہمیت تھی کہ یہ نظریہ اُس وقت دو قومی نظریہ کے طور پر ایک بڑا تقاضا تھا ۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو ہمیں اس نظریئے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیئے تھی ۔ اور قومیت کو مذہب سے منسلک کرنے کے بجائے اگر ہم اس کو علاقے سے وابستہ کر لیتے تو شاید یہ ماسئل پیدا نہیں ہوتے جن سے ابھی ہم گذر رہے ہیں ۔

نظریہ ہر زمانے کی ضرورت ہے ۔ نظریہ مثبت اور منفی دونوں رخوں پر پنپ سکتا ہے ۔ حالات اور واقعات نظریے کی تخلیق کرتے ہیں اور جیسے ہی حالات اور واقعات اپنی شکل بدلتے ہیں تو نظریہ بھی کروٹ لے لیتا ہے ۔ یعنی نظریہ ایک عمر بھی رکھتا ہے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب مسلم یہاں آئے تو انہوں نے کوئی ایسا فیصلہ یا کوئی ایسا راستہ منتخب نہیں کیا کہ ملک کو کس نظریے کے تحت چلایا جائے گا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہندؤں کے ساتھ ہمارے جو بھی مراسم تھے وہ تقربیاً ختم ہوگئے ۔ اور ہم اپنے ملک اور اپنے معاشرے میں آگئے ۔ چناچہ وہ دو قومی نظریہ جو دو قوموں کی بنیاد پر تخلیق ہوا تھا ۔ اس کی افادیت نہ رہی ۔ اور ہمارے سامنے دوسرے معاشرتی ، معاشی ایشوز اپنی مختلف ساخت میں ہمارے سامنے آگئے ۔

1947 سے اب تک ان ساٹھ سالوں میں نظریے کو حکمرانوں نے اپنے مفادات اور ضرورت کے لیئے استعمال کرکے ملک میں تقسیم کا عمل شروع کیا ۔ اب 1970 کے انتخابات دیکھیئے ۔ ملک میں انتخابات ہورہے ہیں ۔ اور ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور غالب اکثریت ہے ۔ 113 علماء کرام کا فتویٰ آرہا ہے کہ فلاں فلاں جماعتیں درست نہیں ہیں لہذا ان کی مخالفت کرنا واجب ہے ۔ اور ان کو ووٹ دینا ناجائز ہے ۔ اور جو جماعتیں ان کے خلاف ہیں ان کی حمایت کرنا ” جہاد ” ہے ۔ چناچہ نظریہ حمکران گروہوں کے مفادات کےلیئے ایک ذریعہ بن گیا ۔

ایک اور نظر 1971 پر ڈالیں جب بنگال میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا تھا ۔ اس وقت مولانا ظفر احمد عثمانی نے فتویٰ دیا کہ بنگالی ، مسلمانوں کی شرعی حکومت کے خلاف خروج کر رہے ہیں تو ان کا خون حلال ہوگیا ہے ۔ اور جو بنگالی اس لڑائی میں مر رہے ہیں ان کی موت حرام ہے اور اس کے برعکس جو لوگ ان کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جا رہے ہیں وہ ” شہید ” ہیں ۔ چناچہ اس طرح کی صورتحال میں نظریے نے ظلم کو تحفظ دیا ۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ نظریے کے پروموٹرز کون ہیں ۔ یہ سارا معاشرہ مسلمانوں کا ہے اور ایک گروہ کھڑا ہوکر کہتا ہے کہ ہم نظریہ پاکستان کے محافظ ہیں ۔ اور جو جو لوگ ہمارے خلاف ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ ایک ہی ملک میں لوگوں کو تقسیم کیا گیا اور اپنے اپنے مفادات کی خاطر نظریہِ پاکستان کو مہر کی طرح استعمال کیا گیا ۔

نوابزادہ شیر علی خان ( یٰحیی کے دور کے ایک وزیر ) نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ پاکستان کی افواج کی سب سے اہم ذمہ داری جغرافیائی حدود کی حفاظت نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کا تحفظ ہے ( ؟ ) ۔ اور اس پر نہ صرف کام ہونا چاہیئے بلکہ اس کو آگے بھی بڑھانا چاہیئے ۔ اور بعد میں اس کام کے لیئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔ ( مگر وہ ایک لمبی بحث ہے ) ۔
کچھ سالوں بعد یہ نظریہ ضیاءالحق کے ہاتھ آگیا اور پھر ضیاء الحق نے اس نظریے کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کیا ۔ جن میں ” جہاد ” قابلِ ذکر ہے ۔ ضیاءالحق کے دور میں اس نظریے کی دوبارہ تشہیر کی گئی اور ” مطالعہِ پاکستان ” کو نصابی کورسوں میں شامل کیا گیا ہے ۔ غور طلب بات ہے کہ جب ملکی اور عوامی مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں تواس نظریہ پاکستان کو ان مسائل کے مدمقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے ۔ جب بھی حکمران طبقہ اپنی مقبولیت کھونے لگا اس نے نظریہ پاکستان کو استعمال کیا ۔

جب ہم پاکستان اور نظریے کے مخصوص پس منظر میں بحث کرتے ہیں تو تحریک ِ پاکستان کی دو جہتیں نمایاں ہوتیں ہیں ۔ جو ایک حساب سے مختلف بھی تھیں ۔ ایک تو یہ کہ قائدِ اعظم کا یہ نکتہ تھا جوکہ قراردادِ پاکستان کی صورت میں سامنے آیا کہ ہندو اور مسلمان دو کمیونیٹیز نہیں دو مختلف قومیں ہیں ۔ اور ان کی سیاسی ترجیحات اور مشکلات کو حل کرنا بین الاقوامی ایشو ہے ۔ دوسری جہت یہ تھی کہ جو مسلم اکثریت کے علاقے ہیں کم از کم وہاں بسنے والے مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور مذہبی زندگی میں ایک مثبت تبدیلیاں لانا اور ایک عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانا مقصود تھا ۔ ایسی کئی مثالیں قائدِ اعظم کے ارشادات میں مل جاتیں ہیں کہ مثال کے طور پر ایک دفعہ قائدِ اعظم نے چند کسانوں کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دیکھا جو انتہائی کمسپری کی حالت میں تھے ۔ قائدِ اعظم نے ان کو دیکھ کر کہا کہ اگر پاکستان میں اسی طرح کی غربت ہوگی تو میں ایسے پاکستان کے حق میں نہیں ہوں ۔

ہماری سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر جو ایشو چل رہا تھا وہ 1947 میں حل ہوگیا کہ پاکستان بن گیا ۔ لیکن دوسری جو جہت تھی وہ میری نظر میں مکمل نہیں ہوئی ۔ اور اس کی وجہ سے خرابیاں در خرابیاں پیدا ہوتیں چلیں گئیں ۔ہمارا وہ اتحاد جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہو اتھا وہ تو کام میں آگیا مگر وہ اتحاد اور وعدہ جس میں ہمیں ایک عام آدمی کو خوشحال زندگی گذارنے کے اسباب فراہم کرنے تھے اس پر ہمارا اتحاد قائم نہیں رہ سکا ، ہم اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کرسکے ۔ نظریہ سازی کا عمل قوم کے سانس لینے کے عمل کے ساتھ چلتا ہے ۔ اگر امریکہ کو دیکھیں تو وہ 60 اور 70 کی دھائیوں میں سرد جنگ کی پالیسیاں چلا رہا تھا ۔ سرد جنگ ختم ہوگئی تو وہ نیو ورلڈ آرڈر میں آگئے ۔ پھر نیو ورلڈ آرڈر کے بعد نیو ورلڈ قدامت پسند آگئے اور اب War At Terrorism شروع ہوگئی ہے ۔ ہر عشرے میں قوم کو اپنی ترجیحات پر غور کرنا پڑتا ہے ۔ اور اس کے لیئے ایک لائحہِ عمل بھی ضروری ہوتا ہے جو کہ ہر قوم کے لیئے ضروری ہوتا ہے جیسا کہ اقبال نے کہا تھا کہ ”

جہانِ تازہ سے افکارِ تازہ کی نمود

پاکستان ہم کو مل گیا تھا اور ہم کو جو افکارِ تازہ چاہئیے تھے اور پھر ان افکار ِ تازہ کو حاصل کرنے جو آزادی چاہیئے تھی وہ غالباً راستے میں کہیں کھو گئی ۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو بھی حکمران پاکستان پر حکومت کرکے گئے ۔ انہوں نے ملک کے ایک عام آدمی کی حالت سدھارنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔ جس کے نتیجے میں نظریے نے اپنی افادیت کھو دی ۔ ایک تاثر نظریے کے خلاف یہ سامنے ابھر کر آیا کہ نظریہ غلط ہے ۔ ( واضع رہے کہ نظریے کی دو جہتیں زیرِ بحث ہیں ۔ ایک تو یہ کہ دو قومی بنیاد پر ایک مملکت کا قیام جس میں ہم کامیاب رہے اور دوسرا یہ کہ اس مملکت میں اسلامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مملکت کے ہر ایک شخص کو تحفظ کے ساتھ معیارِ زندگی کے اسباب پیدا کرنا ۔ جس میں ہم ناکام رہے ۔ اور اسی پر بحث کرنا اس مضمون کا ماخذ ہے ۔ ) ۔ لہذا حکمرانوں کے اس طرزِ عمل سے نظریہ کو قصور وار ٹہرایا جانے لگا ۔ مگر یہ ایک غلط سوچ ہے کہ نظریہ پاکستان میں پنپ نہیں سکا ۔ دیکھیں ! مثال کے طور پر جو لوگ اس نظریے کے خلاف ہیں اور وہ اس ملک کو سیکولر ملک بنانا چاہتے ہیں اور اگر وہ بھی اپنے اس نظریے کو لیکر اس ملک کے لوگوں کو خوشحالی ، عدل وانصاف نہیں دے سکے تو ان کا بھی پھر نظریہ غلط ثابت ہوجائے گا ۔ ؟ ۔ بات نظریئے کی نہیں ہے ۔ اگر آج بھی کوئی شخص آجائے اور خواہ اس کا نظریہ کچھ بھی ہو مگر وہ اس ملک کے مسائل کو دیانت کی بنیاد پر حل کرتا ہو تو ریاست میں رہنے والوں کو اس سے سروکار ہرگز نہیں ہوگا کہ ان پر حکمران کون ہے ۔ وہ تو صرف یہ دیکھیں گے کہ وہ پُرسکون ، پُر امن ہیں ۔ اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں ان کی دسترس میں ہیں ۔ اسلام ہی ہمارے پاس ایک چھتری کی مانند تھا جس کے سائے تلے ہمیں ہماری آئیڈیالوجی مل رہی تھی ۔ مگر یہ تاثر بلکل غلط ہے کہ حکمران ریاست کے لوگوں کی امنگوں پر پورے نہیں اُترے تو نظریہ غلط ثابت ہوگیا ۔ اس صورتحال میں یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ نظریے یا اس کی اساس میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔ بلکہ جنہوں نے اس نظریئے کو استعمال کیا ان سے کوئی خیر برآمد نہیں ہوسکا ۔

ہمارے حمکرانوں اور مذہبی سیاسی لیڈروں نے اس نظریئے کا رخ ہی کہیں اور موڑ دیا ۔ جس طرح حماس نے کیا تھا کہ آئیڈیا لوجی کی پہلی Manifestations لاء ہے اور پہلی Functionality ریاست ہے ۔ چناچہ ان لیڈروں نے جب اسلامی ریاست کی آئیڈیالوجی کو اس طرح Coin کیا تو یہ کہا گیا کہ یہ اسلام ہے ۔ایک اسلام معاشرے میں پہلے سے ہی موجود تھا ۔ لوگ نماز بھی پڑھ رہے تھے ، حج بھی کر رہے تھے ، زکوۃ بھی دے رہے تھے ۔مگر انہوں نے کہا کہ تم کو یہ آئیڈیالوجی قبول ہے تو ٹھیک ہے ورنہ تم سیکولر ہو ۔ اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اسلامی آئیڈلوجی ہی نے حمکران طبقے کو سپورٹ کیا ہے ۔ اب ضیاءالحق کا ہی جہاد لے لیں ۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اسلام جس کی ہم 14 سو سالوں سے پریکٹس کرتے چلے آرہے ہیں اس میں ریاست کے علاوہ بھی جہاد کر سکتے ہیں ۔ ؟ ۔ اس صورتحال میں جو بھی اسٹیج پر آیا اس نے کہا کہ وہ ” امیر المومنین ” ہے ۔ اس دور میں ضیاءالحق امیر المومنین تھے اور امیرِ مجاہدین تو بے تحاشہ پیدا ہوگئے ۔ کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اسلام میں کہیں کسی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ ایک عام آدمی کھڑا ہوکر قتال شروع کردے ۔ اسلام یا دنیا کے کسی بھی نظام میں یہ بات قطعی ہے کہ حدودِ تعزیرات اور جہاد ریاست کی ذمہ داری ہیں ۔ ایک اسلام تھا جو تھا ، ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ مگر یہ جو Interpretation والا اسلام ہے اس نے ہر دور میں اپنا چوغہ بدلا ہے اور دشمن بھی بدلے ہیں ۔
زیادہ دور نہ جائیں دیکھیں ۔ 1970 جو میں کفر اور اسلام کی جنگ تھی ۔ وہ 1977 میں کیوں نہیں رہی ۔ ؟ 70 میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کفر کا منبع تھی ۔ 77 میں وہی پارٹی پی این اے کا حصہ بن گئی ۔ وہی لوگ تھے مگر کفر کے دائرے سے اب باہر ہوگئے ۔ مولانا مفتی محمود جن کے ساتھ 1970 میں 113 علماء کے فتوؤں کے مطابق تعاون کرنا ناجائز تھا ۔ 1977 میں وہی مفتی محمود پی این اے کے صدر تھے ۔ اسلامی آئیڈیالوجی کی اصل شکل کو جس طرح مسخ کیا گیا اس نے نہ صرف معاشرے میں مسائل پیدا کیئے بلکہ لوگوں کے عقیدے میں بھی بہت سی گرہیں ڈال دیں ۔

تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان سے ہندوؤں کا مسئلہ حل ہوگیا اور دو قومی نظریئے کے تحت پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔ مگر پاکستان میں رہ کر ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں کیا طریقہِ کار اختیار کرنا ہے ۔ ؟ لوگوں کے درمیان معاملات کیسے طے ہونگے ۔ ؟ عدالتیں کس طرح انصاف کریں گی ۔ یہ وہ معاملات تھے جن کا تعلق آئین سازی سے تھا ۔ یہ سارے معاملات باآسانی طے ہوجاتے اگر آئین سازی بروقت ہوجاتی ۔

میرے خیال میں پاکستان کی آئین سازی کی ناکامی کی چند وجوہات ہیں ۔ جن میں سے میں یہ دو قابلِ ذکر سمجھتا ہوں ۔

ایک فکری تہی دامنی ۔ پاکستان حاصل کرنے کے لیئے ہمیں جو political equivalent چاہیئے تھی ۔ وہ بڑی واضع ہے ۔

فکری تہی دامنی کے ساتھ دوسری بڑی چیز بدنیتی تھی کہ پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ کے تسلسل میں بدنیتی صاف نظر آتی ہے ۔ آزادی کا جو تحفہ پاکستان کے خطے میں بسنے والوں لوگوں پہنچنا تھا وہ راستے میں کہیں گم ہوگیا ۔ پاکستان کے قیام کے لیئے جو جدوجہد کی گئی ۔ وہ جدوجہد پاکستان کے قیام کے بعد عوام کی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لیئے بھی ہونی تھی مگر وہ منقود ہوگئی ۔ اور پھر ہم نے مسلسل اس جہدوجہد سے فرار کیا ۔ ہماری عدالتوں نے فرار کیا ۔ ہماری بیوروکریسی نے فرار کیا ، ہمارے سیاستدانوں نے فرار کیا اور ہماری فوج نے بھی ایک حد تک فرار کیا ۔ فوجی جرنیلوں کی حمایت میں تقریر کرنے والے کوئی ان پڑھ کسان تو نہ تھے بلکہ باہر کی یونیورسٹیوں کے اعلی تعلیم یافتہ تھے ۔ جو لوگوں کو سمجھا رہے ہوتے تھے کہ اس ملک میں جہموریت چل نہیں سکتی ۔ لیکن اب یہ سوچ دوبارہ پیدا ہورہی ہے کہ اب ہمیں بطور قوم اپنی منزل یا سمت کا تعین کرنا ہے ، کوئی لائحہ عمل اخیتار کرنا ہے ۔ 1973 کے آئین کو سنگِ میل کیوں کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ قرآن اور حدیث کے بعد کسی ڈاکومنٹس پر اگراکثریت کا اتفاق ہے تو وہ 73 کا آئین ہے ۔ کیونکہ وہ ہمیں ایک دم سے متحد کر دیتا ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک منتخب اسمبلی کی طرف سے آیا ہے ۔ ( اس وزیرِ اعظم سے اختلاف زیرِ بحث نہیں ہے ) اور یہ عمل جمہوری طریقے سے رونما ہوا ۔ اگر یہی آئین سازی 47 یا 49 میں ہوگئی ہوتی تو آج ہم جس انتشار اور تفریق کو رو رہے ہیں اس کی نوبت نہیں آتی اور آج صورتحال کی نوعیت قدرے مختلف ہوتی ۔

پاکستان کی آئیڈیالوجی کو بعد میں جس طرح بڑھایا گیا اس سے ملک کے سیاسی ، معاشی نظام متاثر ہوئے ۔ آئیڈیا لوجی اسٹیٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک مخصوص فریم ورک میں کام کرتی ہے ۔ آئیڈیالوجی اسٹیٹ ایک طرح سے brutal ہوجاتی ہے ۔ وہ کسی اور سچائی کو قبول نہیں کرتی ۔ وہ فرد سے فردیت چھین لیتی ہے ۔ اس کی مثال ہمارے سامنے اسرائیل کی ہے ۔ جو خود کو chosen people کہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں فرد کا ارتقاء نہیں ہو پاتا ۔ دیکھیں ۔۔ ہمارے ہاں کس قسم کے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں ۔ پاکستان بنا ۔ پہلی تجویز یہ آئی کہ مغربی اور مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی کی ساڑھے تین سو سیٹیں ہونی چاہئیں ۔ پہلا الیکشن 1954 میں ہوا ۔ چالیس ، چالیس کے تناسب سے اس میں 80 سیٹیں رکھیں گئیں ۔ ( ؟ ) فوقیت پہلے ہی دن سے شروع ہوگئیں ۔ سینٹ میں ایسٹ پاکستان کی اکثریت نہیں ہونی تھی کہ پانچ صوبے تھے ۔ اگر سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس ہوتا تو مشرقی پاکستان کہاں ہوتا ۔ ؟ مشترکہ اجلاس میں ان کی اکثریت اقلیت میں بدل جاتی اور جب انہوں نے اس پر اتجاج کیا تو ان کے خلاف نظریئے کو استعمال کیا گیا ۔ ہمارے ہاں عوامی حقوق کو دبانے کے اس نظریئے کو بارہا استعمال کیا گیا ۔ سیٹوں کی تقسیم میں بد دیانتی ہو رہی تھی اور جو نظریہ سازی کا عمل ہورہا تھا وہ بھی بددیانتی پر مبنی تھا ۔ اور جو ہاتھ اس بدنیتی اور بددیانتی کے مرتکب ہو رہے تھے ۔ ہمیں ان ہاتھوں کو پہچانا چاہیئے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری آزادی پر جو ڈاکہ پڑا ہے اگر آپ اس کی نشان دہی تلاش کریں گے تو وہ اُنہی نظریہ سازوں کے گھروں پر جاتا ہے ۔ امریکہ اور برطانیہ کے ایمبیسڈروں کا 1950 میں جو رول رہا ہے اور جو آج تک چل آرہا ہے اور جس آئین سازی اور عوامی حاکمیت کو ہم روتے ہیں اس میں گھر کے علاوہ بیرونی لیٹرے بھی تھے ۔ ہم نظریئے سے بدظن نہیں ہوسکتے تو ہمیں سوچنا چاہیئے کہ کیا نظریہ ایک قوم کی وحدت بن سکتا ہے ؟ ۔

اقوامِ عالم میں پاکستان کا یہ امتیاز تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نظریاتی مملکت ہے ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو ریاستیں آزاد ہوئیں وہ بالخصوص نسل یا جغرافیائی بنیادوں پر وجود میں آئیں ۔ اس وقت پوری دنیا میں جہموری انقلاب برپا تھا ۔ پاکستان کا بھی حق تھا کہ وہ اپنا جہموری حق منوائے ۔ اور پاکستان کے قائدین نے وہ حق منوایا بھی ۔ لیکن پاکستان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ۔ اقوامِ عالم میں کسی اور ریاست کی اگر مثال دی جاسکتی ہے تو وہ اسرائیل ہے ۔ جو ایک مذہب کے ماننے والوں کے طور پر وجود میں آیا ۔ اس نظریے نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو ایک امید دی اور ان کے اچھے مستقبل کے لیئے ایک کرن روشن کی ۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں رہنے والے مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرنا شروع ہوا کہ جو نظریہ ہم سب کے لیئے ایک عبادت کی علامت تھا ۔ وہ کس حد تک ان کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوا ۔ اور ایک نظریاتی جہدوجہد کے نتیجے میں وہ کس حد تک ان مسائل اور مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے جو اس وقت آج ہمارے سامنے غربت ، افلاس اور مایوسی کی شکل میں موجود ہیں ۔

نظریے کے حوالے سے ایک جہد اور بھی ہے ۔ اور وہ جہد یہ ہے کہ اس نظریے میں جب ہم نے دو قومی نظریئے اور اسلام کو لاتے ہیں تو وہیں پر اس نظریئے کی بنیاد میں ہندو مخالفت بھی نظر آتی ہے ۔ اور اس ہندو مخالف رویے نے ساٹھ سالوں میں ہمارے ذہن کو کس طرح بدلا اور اس وجہ سے ہماری پالیسیاں کس طرح تبدیل ہوئیں اور ہم نے کتنا نقصان اٹھایا ۔ میرا خیال ہے کہ یہ پہلو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ ہم ہندوستان سے الگ ہوئے مگر ایسا نہیں ہوا کہ ہماری تاریخ اور کلچر بھی الگ ہوگیا ۔ آج بھی دونوں طرف منقسِم خاندان موجود ہیں ۔ ایک نظریے کی بنیاد پر جب ہم نے ایک ریاست بنائی تو اس کے کچھ مضمرات بھی تھے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارا ہدف Imperialism ہوتا ۔ جیسے برطانیہ Imperialism کہ انہوں نے ہم کو ایک عرصے تک غلامی میں رکھا ۔ مگر وہ ہدف ایسا تبدیل ہوا کہ ہندوستان ہماری دشمنی اور نفرت کا مرکز بن گیا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایسی ترجیحات مرتب ہوئیں کہ بطور ایک قوم ہمیں آگے بڑھنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔

انہی خطوط پر چلتے ہوئے ہم نے امریکن لابی میں شمولیت اخیتار کی ۔ اور پھر ا سکے بعد ہم نے کیا کیا ۔ ؟ ہماری ترجیحات کی نوعیت کی کیا شکل بنی ۔ ؟ یہی کہ ہم امریکہ کے فرنٹ لائن کا ملک بن گئے ۔ ذرا سوچا جائے کہ یہ فرنٹ لائن کا ملک ہوتا کیا ہے ۔ اگر آپ نے شطرنج کھیلی یا دیکھی ہے تو یہ ضرورمعلوم ہوگا کہ پیادہ ہی سب سے آگے ہوتا ہے ۔ اور کوئی بھی شاطر بآسانی سے بادشاہ کے لیئے پیادے کو مروا دیتا ہے ۔ تو ایسے ایسے شوق ہم نے پال رکھے ہیں ۔ ( ! ) ۔۔۔ چناچہ اب انہوں نے ہمیں جو تائید مہیا کی اور جس بنیاد پر کھیل کھیل کر انہوں نے حکومتیں کیں ۔ ان میں یہ دو باتیں بہت نمایاں تھیں ۔ ایک دو قومی نظریہ اور ہندوستان دشمنی ۔ اور ساتھ ساتھ گاہے بگاہے کشمیر ایشو کو ہائی لائیٹ بھی کرتے رہنا تھا ۔

انہی باتوں کے تناظر میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو منظر واضع ہوتا چلا جاتا ہے ۔ ایک نظریے اور ریاست کے تعلق کی طرف جب ہم لوٹتے ہیں تو ایک واضع فرق ہم کو نظر آتا ہے کہ ہندوستان میں انہوں نے جاگیردارانہ نظام ختم کردیا ۔ مگر ہمارے پاس نہیں ہوسکا ۔ اور اس کا ایک سبب یہ سامنے آتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد جو کمیشن بنایا گیا تھا اس میں دولتانہ نے کہا تھا کہ ہم زرعی اصطلاحات لائیں گے ۔ اس وقت کے علماء نے اس کی مخالفت کر کے جاگیردارانہ نظام کو ملکیتِ زمین کے شرعی اصول بتا کر تحفظ فراہم کیا ۔ تو گویا وہ نظریہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں ایک دیوار کی طرح حائل ہوتا چلا گیا ۔ جس کا رونا اب روتے ہیں ۔

میں ایک اور بات واضع کردوں ۔ ایک ہے دو قومی نظریہ اور دوسرا ہے نظریہِ پاکستان ۔ میرا خیال ہے ان دونوں میں لوگ تفریق نہیں کر پاتے اور اس کو ایک ہی نظریہ سمجھتے ہیں ۔ دو قومی نظریہ ایک تاریخی حقیقت بن کر سامنے آیا اور مسلمانوں نے اس کو بنیاد بنا کر تسلیم کیا اور پھر جہدجہد کر کے 1947 میں پاکستان حاصل کرلیا ۔

جبکہ ” نظریہ ِپاکستان ” بعد کی پیداوار ہے ۔ نظریہ پاکستان ، جسے اسلام کے مطابق کہا جاتا ہے ۔ بلکل غلط ہے ۔ بلکہ یہ اسلام کی ایک خاص Interpretation سے جُڑا ہوا ہے ۔ اور وہ ہے نظریہ اسلامی ریاست ۔ مسلمانوں کے ہاں ریاست مدینے میں وجود میں آگئی تھی ۔ اور اس ریاست میں سب کے حقوق مساوی تھے ۔ اور حقوق کی ان مساوات کی نوعیت یہود قبائل میں بھی یکساں تھی ۔ اور وہ ریاست بطور نظریہ نہیں تھی ۔ تیرہ سو سالوں میں مسلمانوں نے ہمیشہ ریاست بطور فلاحی ریاست پر زور دیا ۔ اور ہمارے جتنے بھی مفکرین گذرے ہیں وہ ایسی ہی ریاست پر زور دیتے رہے ہیں ۔ جس میں انسانیت کی فلاح مقصود ہو ۔ یہ تو بیسویں صدی میں ایسے نظریات کی بھرمار ہوگئی ہے کہ ایسی ریاست پر زور دیا جارہا ہے جو انسانیت کے بجائے نظریے کے حوالوں پر زور دیتیں ہیں ۔ اور یہ نظریات اسلام کی ایک Interpretation کے تحت وجود میں آئیں ۔ جس میں نظریاتی گروہ نے انسان اور نظریہ کا مقابلہ پیدا رکھا ہے ۔ جیسا کہ میں نے ابھی کہا تھا کہ ایک انجمنِ تحفظِ حقوقِ زمینداران بمطابق شرعیہ نامی ایک تنظیم بنی تھی ۔ جس کے صدر جناب نوابزادہ نصراللہ تھے ۔ اور اس وقت جاگیرداروں کے حقوق کے لیئے علماء سے کتابیں لکھوائیں گئیں تھیں ۔ اب مولوی نے وہاں مداخلت نہیں کی جہاں اقدار مجروع ہورہے تھے ۔ اگر ا سمیں جاگیرداری کے خلاف کوئی عمل ہورہا تھا تو اس میں کہاں سے دینی اقدار مجروع ہورہے تھے ۔

” ریاست بطور نظریہ ” اسلام میں کبھی معترف نہیں ہوئی ۔ ریاست بطور نظریہ اس بیسویں صدی کا واقعہ ہے ۔ اس سے پہلے شاہ ولی اللہ (رح ) ، امام غزالی ( رح ) ، ابنِ خلدون جیسے مفکرین اور عالموں کے ہاں ریاست بطور نظریہ کا تصور نہیں ملتا ۔ شاید میری اس بات سے کئی ذہنوں میں یہ سوالات اٹھتے ہوں کہ قرآن کے بہت سے احکامات ہیں جو اجتماعیت سے ہیں ۔ ریاست سے ہیں ۔ اگر ریاست کا کوئی وجود لانا مطلوب نہیں ہے تو ان احکامات کا اطلاق کہاں ہوگا ۔ ؟

دیکھیئے ۔۔۔ ! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو اس وقت دنیا میں دو ابرہیمی مذہب پہلے ہی سے موجود تھے ۔ ایک یہود اور دوسرا نصاریٰ مذہب ۔ یہودی کی Perception یہ تھی کہ ریاست ایک مذہب ہے ۔ اور جبکہ نصاریٰ کی Perception یہ تھی کہ مذہب ایک گرجا ہے ۔ تو رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسلم معاشرہ تشکیل دیا ۔۔ جو ریاست مسلمانوں نے قائم کی اس میں انسانی حوالوں کو ہمیشہ سامنے رکھا گیا ۔ ریاست کو کلمہ پڑھانے کی پہلے کبھی بات نہیں کی گئی اور ایک خاص بات کہ جب ہم آئیڈیالوجی کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ہمیشہ مغرب ہی ہوتا ہے ۔ اور مغرب ہمشہ تنہائی کامعاشرہ رہا ہے ۔ مغرب نے اب جاکر جنگِ دوم کے بعد اپنا عیسائی اور یہودی مسئلہ حل کیا ہے ۔ وہ کسی دوسرے کو قبول نہیں کرتے اور زبان پر لڑجاتے ہیں ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انہوں نے اسی بنیاد پر بےتحاشہ جنگیں آپس میں لڑیں ہیں ۔ جب ہم نظریاتی بنیاد پر کسی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں تو وہ فرد کے ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کا معاشرہ ہمیشہ قابلِ تسخیر رہا ہے ۔

آج کے پاکستان کو اگر ہم دیکھیں تو ہمیں نظریہ اور ریاست دونوں عوام کی دسترس سے دور نظر آتے ہیں ۔ سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھیں کہ بطور شہری ریاست چلانے کا اختیار ہمیں حاصل کرنا ہے ۔ باقی ترجیحات بعد کی بات ہے ۔

اب یہی دیکھ لیں حدود آرڈیننس فوجی حکمران لایا ۔ جنہوں نےاس آرڈیننس کو سپورٹ کیا وہ بھی اسی فوجی حکمران کے ساتھ آئے ۔ سول سوسائٹی نے اس کی مخالفت کی ۔ اس میں عوام کہاں ہے ۔ ؟ سیدھی سی بات ہے کہ جب تک ان کو سادہ لوح ریڈی میڈ عوام مل رہے ہیں ۔ عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کا جو تسلسل ساٹھ سالوں‌سے چلا آرہا ہے وہ اسی طرح چلتا رہے گا ۔ کیونکہ جب تک ہم اپنا سر کٹنے کے لیئے پیش کرتے رہیں گے ۔ سر کاٹنے والے ہاتھ موجود رہیں گے ۔ ہمارے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم جدھر چاہیں ریاست کے گھوڑے کی باگ موڑ دیں ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے عوام اس باگ کو سنبھالیں تو سہی ۔ اور اس کے لیئے وہی دانشمندی ، دیانتداری ، سنجیدگی ، بہترین لائحہ عمل اور تُند دہی درکار ہے جو ہم نے پاکستان کو حاصل کرنے کے لیئے استعمال کی تھی ۔ یہ اصل میں‌عوام ہیں جن کو یہ حق ملنا چاہیئے کہ وہ اپنے لیئے کس طرح کا نظام اور ماحول چاہتے ہیں ۔

بات بہت واضع ہے کہ اگر پاکستان میں خوشحالی اور ترقی لانی ہے تو عوام کو فیصلے کا اختیار ملنا چاہیئے ۔ اور اسلام یا کسی نظریئے کے بارے میں کسی کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام دین ہے کوئی نظریہ نہیں ہے ۔ نظریہ بہت چھوٹی چیز ہے ۔ اسلام بہت ہی اعلیٰ و ارفع اور ایک بہت ہی بڑی حقیقت ہے ۔اسلام تو ایک نیا انسان پیدا کرتا ہے ۔ اور ایک نیا انسان ایک نئی دنیا تشکیل دیتا ہے ۔ اور عوام کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ حقوق دیئے نہیں جاتے بلکہ لیئے جاتے ہیں ۔ (مگر اب کچھ ایسے آثار پیدا ہورہے ہیں ، جن سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عوام میں یہ شعور اجاگر ہو رہا ہے کہ نظریہ کا جو تصور ان کے سروں پر تھوپا گیا ہے ا سکی حقیقت کیا ہے ۔ ؟ ) ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیا سکہ شروع نہیں کیا تھا بلکہ وہی سکہ چلاتے رہے جو پہلے سے چل رہا تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی وہی کیا ۔ مگر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں‌ مسلمان غالب ہوئے تو پھر اس وقت سکہ بدلا گیا کہ اب تفیہمِ نو کی‌ ضرورت تھی ۔ اور آگے کی ضروریات اور ترجیحات کا بھی یہی تقاضا تھا ۔ چناچہ وقت اور حالات کے ساتھ انسان اپنی ضروریات اور ترجیحات کا بھی جائزہ لیتا ہے اور پھر اس کے تناظر میں کوئی نئی حکمت عملی کے ساتھ کوئی نیا لائحہ عمل سامنے لاتا ہے ۔ پاکستان کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے ۔ اور یہ ناممکن ہے کہ اسلام اور نظریئے کو اس ملک کے مسلمانوں سے کوئی نقصان پہنچ جائے ۔ لہذاٰ ترجیح نظریئے کے دفاع پر زور دینے کے بجائےان لوگوں کے مفادات اور دفاعات پر ہونی چاہیئے ۔ جنہیں ہم عوام کہتے ہیں ۔

10 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com