محاسبہ

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

آج رات میری آنکھوں سے نیند کوسوں دُور تھی۔ مجبوراً سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔ کل میری وطن روانگی تھی ۔۔۔ پُورے آٹھ سال بعد ۔۔۔ ان آٹھ سالوں میں جہاں میں نے پایا تھا ۔۔ وہاں کھویا بھی بہت کچھ تھا۔ بلکہ یُوں کہنا بہتر رہے گا کہ میں نے کھویا ہی کھویا تھا۔

وطن چھوڑنے کے بعد بھی میرے دل میں وہ کسک اب بھی موجود تھی جو میں یہاں امریکہ آتے ہوئے ساتھ لایا تھا۔ وہ آخری رات کا منظر میری آنکھوں میں ابھی تک اس طرح محفوظ تھا کہ جیسے وہ کل کی ہی بات ہو۔ اُس رات فرح کی شادی تھی اور میری امریکہ روانگی ۔۔۔ اور فرح عجلہ عروسی کے جوڑے میں میرے گھر میں آکر میرے کمرے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔ (اور اُس رات میرے گھر والے میرے لئے گرم کپڑوں کی خریداری کے لئے باہر نکلے ہوئے تھے کہ امریکہ میں ضرورت پڑے گی۔) وہ دسمبر کی بڑی سرد رات تھی۔ جب وہ سارے رشتے ، سارے بندھن میری خاطر توڑ کر آئی تھی۔ اُس کے گھر پر برات آنے والی تھی اور وہ میرے کمرے میں کھڑی سیسکیاں بھر رہی تھی۔

جہانزیب ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ میں تمہاری خاطر ہر چیز کو داؤ پر لگا کر آئی ہوں ۔۔۔۔ حتٰی کے اپنی اور اپنی گھر کی عزت وناموس کو بھی ۔۔۔ پلیز مجھے اپنا لو ۔۔۔اب بھی وقت ہے ۔۔۔ میں تمہارے علاوہ کسی اور کی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔ میں اپنی محبت کو اپنے اور تمہارے گھر کے جھگڑوں میں دفن نہیں کروں گی۔

میں اور فرح بچپن ہی ایک ساتھ کھیل کود کر جوان ہوئے تھے۔ لڑکپن کی معصومیت اور اپنائیت کا رشتہ اب محبت کے عظیم رشتے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ مجھے اُس کو اور اُسے مجھے دیکھے بغیر چین نہیں آتا تھا ۔ میرا گھراُس کے گھر کے عین سامنے تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہماری محبت میں ایسا والہانہ پن آگیا کہ جسے دیکھ کر میرے اور اُس کے گھر والوں نے اشاروں ہی اشاروں میں ہمیں ایک دوسرے سے منسُوب کر دیا ۔ ہم مسرور اور مطمئن تھے کہ ہمیں اپنی محبت کی منزل بغیر کسی دُشواری کےمل جائےگی۔ مگر قدرت ایک ایسا طوفان ہم دو گھروں کی بیچ لے کر آگئی کہ جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے اور اُس کے والد ایک ہی فرم میں کام کرتے تھے ۔ وہاں ایک دن رقم کی لین دین کا کچھ ایسا معاملہ اُٹھ کھڑا ہوا کہ ابو اور فرح کے پاپا نے ایک دوسرے پر الزام رکھ دیا ۔ صیح واقعہ کا مجھے آج تک علم نہیں ۔۔۔ مگر وہ واقعہ میرے اور فرح کے گھروں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر گیا کہ فرح اور میرے گھر والوں نے نہ صرف ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیا بلکہ فرح کے والد اپنا گھر بیچ کر کسی اور علاقے منتقل ہو گئے۔

میں نے بہت کوشش کی کہ مصالحت کا کوئی راستہ نکل آئے مگر بے سُود ۔۔ فرح کے پاپا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو ختم دیں گے مگر مجھ سے اُس کی شادی نہیں کریں گے۔ فرح نے بھی بہت کوشش کی مگر کوئی حل نہ نکلا۔ میں اور فرح کبھی کبھار چوری چھپے کہیں مل لیتے اور اپنی قسمت کو روتے رہتے۔

ایک سال گذرنے کے بعد فرح کا پاپا نے اُس کی شادی کہیں طے کردی اور ہمیں شادی کا دعوت نامہ بھی بھیجا جسے میرے ابو نے پُرزے پُرزے کردیا ۔۔۔۔فرح کی شادی والے دن ہی میری سیٹ اچانک ہی کنفیرم ہوگئی اور گھر والوں کو عُلجت میں میرے کپڑوں کی خریداری کے لئے نکلنا پڑا تھا اور میں گھر رُک گیا تھا کہ جو اور جتنا ہو سکے میں پیکنگ کر لوں ۔ ابو بھی ۔۔ امی اور چھوٹی بہن شگفتہ کے ساتھ چلے گئے تھے (جو کہ عموماً نہیں جاتے تھے) میرے ابو کو یہی یہی دکھ تھا کہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی نے اُن کے بیٹے کی محبت چھین لی ، مگر وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ بیٹا ! جو ہوگیا سو ہوگیا مگر کوئی ایسا قدم نہ اُٹھانا کہ مجھے اُس دن کی ذلت سے بھی بڑی ذلت دیکھنا پڑے ) ۔۔۔ اور یہ وہی وقت تھا جب فرح سارے رشتوں کو چھوڑ کر میرے گھر میں میرے سامنے کھڑی تھی۔

تُم جواب کیوں نہیں دیتے جہانزیب ۔۔۔ کیا تم ایک قدم بھی بڑھا نہیں سکتے ۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ سارا سفر تو میں کر کر آئی ہوں ۔۔۔ تمہیں تو صرف ایک قدم بڑھانا ہے ۔

دیکھو فرح ۔۔۔۔ ! (میں نے کچھ دیر خاموشی کے بعد کہا ) میں اور تم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔ مگر جو قسمت نے اپنا کھیل کھیلا ہے اُسے ہم مات نہیں دے سکتے ۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں یا تم اپنی محبت ۔۔ اپنے بڑوں کی عزت کی قربانی دے کر حاصل کریں ۔۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ پلیز واپس لوٹ جاؤ اب بھی وقت ہے ۔

میرا جواب سن کر وہ ایک دم خاموش ہوگئی ۔۔۔ اُس کے چہرے کا کرب دیکھ کر میری روح میں جیسےشگاف پڑ نے سے لگے ۔۔۔ مگر میں خاموش رہا۔ کچھ دیر توقف کے بعد اُس نے کہا ۔۔ ” تمہارے چہرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم حتمی ٍفیصلہ کر چکے ہو ۔۔۔ تو میں بھی اب کوئی فیصلہ کر ہی لوں گی ۔۔۔ مگر مجھے اس بات کی اجازت دو کہ میں تمہیں آخری بار چُھو لوں” ۔۔۔ میری خاموشی دیکھ کر وہ خود ہی آگے بڑھی اور میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ِٹکٹتی باندھ کر مجھے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی ایک چمک دیکھ کر مجھے جھرجُھری سی آگئی مگر میں اُس چمک کو کوئی نام نہیں دے سکا۔

”اچھا۔۔ اب میں چلتی ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ واپس مڑ گئی مگر اس بار اُس کی چال میں بلا کی خوداعتمادی تھی ۔۔۔۔ اُس نے مجھے مڑ کر دوبارہ نہیں دیکھا اور چلی گئی۔

گھر والوں کے آنے بعد میں نے سامان گاڑی میں ڈالا اور گھر والوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ غیاث اور شاہد بھی اپنی گاڑی میں آ گئے مجھے خوشی ہوئی کہ میرے دوست میری ایک کال پر مجھے الوادع کہنےآگئے۔ ہم سب ائیر پورٹ پہنچے اور میں سب کی دُعائیں لیکر اور اپنی زندگی یہاں چھوڑ کر پردیس روانہ ہوگیا۔

امریکہ آنے کے بعد جیسے مجھے کوئی وحشت سی ہوگئی ۔۔ کہیں دل نہیں لگتا تھا ۔۔۔ یونی ورسٹی میں شروع کے تین سالوں میں مجھ سے کئی سمسٹر بھی مِس ہوئے۔ میں کبھی کبھار گھر فون کرلیا کرتا تھا ۔۔۔ ویسے توعموماً گھر سے ہی کال آتی تھی۔ میں نے اپنے دوستوں کہ بھی ان آٹھ سالوں میں کبھی فون نہیں کیا۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی ایک آگ تھی جو مجھے چین ہی نہیں لینے دیتی تھی ۔

جیسے تیسے میں کمپیوٹر سانئس میں میں نے بی سی ایس کیا ۔۔ ایک دو سال جاب بھی کی لیکن پھر ایک دن طبعیت ایسی یہاں سے اُچاٹ ہوگئی کہ اگلے ہفتے کی واپسی کی سیٹ کر والی۔

میرے پاکستان پہنچنے پر امی ابو کا خوشی سے بُرا حال تھا ۔شگفتہ کی شادی ہوچکی تھی وہ بھی اپنے تین سالہ بچے اور شوہر کے ساتھ مجھے ملنے آئی تھی۔
سب کے جانے کے بعد میں اپنے اُس کمرے میں چلا گیا، جہاں میری فرح سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ ابھی میں بیڈ پر بیٹھا ہی تھا کہ فون کی بیل بج پڑی۔ میں نے رسیور کان سے لگایا اور ہیلو کہا ۔۔۔ دوسری جانب غیاث تھا ۔۔۔ اُسے جانے کیسے علم ہوگیا تھا کہ میں پاکستان آگیا ہوں ۔ مجھے بہت بُرا بھلا کہا ۔۔۔۔ کہ کبھی پلٹ کر ہی نہیں پُوچھا ۔۔۔ میں نے کہا یار بس غلطی ہوگئی کل گھر آجا ۔۔۔ پھر بات کرتے ہیں۔ کہنے لگا ۔۔۔ ٹھیک ہے میں کل شام کو آؤں گا تجھ لینے ، مگر تُو صحیح ٹائم پر آیا ہے کہ کل شاہد کی شادی ہے ، کسی کو اُس پر رحم آگیا ہے ۔۔۔ میں یہ سن کی بے ساختہ ہنس پڑا ۔۔۔ پتا نہیں کتنی صدیوں بعد ہنسا تھا ۔۔۔ بچپن کے ساتھی اور اچھے دوستوں کی یہی نشانیاں ہوتیں ہیں جن کی قُربت میں انسان کچھ دیر کے لیئے اپنا غم بھول جاتا ہے۔

غیاث شام کو تو نہیں البتہ دوپہر کو ہی آگیا ۔ شاہد اُس کے ساتھ تھا ۔۔۔ ہم باہر گئے اور بچپن کی کئی یادیں تازہ کیں۔ خوب باتیں کیں ۔۔۔ مگر میں نے ایک بات نوٹ کی کہ دونوں نے میرے زندگی کے اُس عظیم سانحے کا ذکر تک نہیں کیا جس نے میری زندگی کو سب سے دُور کر دیا تھا ۔ مجھے خوشی ہوئی کہ وہ مجھے رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے۔

دوسرے دن شام کو میں اپنی گاڑی میں غیاث کے ساتھ برات کے ساتھ چلا ۔۔۔ مگر جس محلے میں برات جا کر رُکی وہ میرے لئے نیا نہیں تھا ۔۔۔ یہاں فرح رہتی تھی ۔ میں نے غیاث کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اُس نے کہا کہ یار ۔۔۔ شاہد کی شادی فرح کے برابر والے گھر میں ہورہی ہے ۔ یعنی فرح کے پڑوس میں ۔۔ مجھے غصہ آیا کہ یہ بات اُس نے پہلے کیوں نہیں بتائی ۔

دسمبر میں کبھی کراچی میں ایسی ٹھنڈ نہیں پڑتی جیسی کہ آج پڑ رہی تھی یا پھر اُس روز پڑی تھی جب فرح اپنا سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آئی تھی ۔

مجھے سگریٹ کی طلب ہوئی تو میں ٹینٹ سے باہر نکل کر آگیا ۔۔۔ پیچھے اندھیرا تھا مگر ٹینٹ کے قمقموں سے کہیں نہ کہیں سے روشنی اس طرح آرہی تھی کہ اندھیرے کا احساس نہیں ہورہا تھا ۔ میں نے ساتھ والے مکان کی دیوار کے پاس کھڑے ہو کر اپنی سگریٹ سُلگائی اور منہ اُوپر کر کے دھواں چھوڑا تو مجھے احساس ہوگیا کہ یہ فرح کا گھر ہے اچانک ہی مجھے چُوڑیوں کی کھنک سُنائی دی ۔ میں نے اپنے دائیں جانب دیکھا تو وہاں فرح کھڑی تھی۔

میں سُن ہوکر رہ گیا ۔۔۔ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ فرح سےکبھی اس طرح ملاقات ہوگی۔۔۔

” کیوں کیا ہوا ۔۔ ؟ اُس دن کی طرح آج بھی تمہیں سانپ سونگھ گیا۔ ”

میں جھینپ گیا ۔۔۔ اور کہا نہیں۔۔۔ یہ بات نہیں ہے دراصل میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں تم سے یوں اور اس طرح ملاقات ہو جائے گی۔

ا گر دل میں ملنے کا جذبہ ہو تو پھر ملاقات زندگی میں کیا زندگی کے بعد بھی ہو جاتی ہے ۔” اُس نے کہا
۔
مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ پر طنز کر رہی ہے جو کہ اُس کا حق بھی تھا۔

وہ کچھ اور قریب آگئی

میں نے دیکھا کہ وہ آج بھی اُسی طرح کے عجلہ عروسی کے جوڑے میں تھی جیسا کہ میں نے اُسے آخری بار دیکھا تھا۔اور آٹھ برسوں نے اُس کے حُسن کو ُچھوا تک بھی نہیں تھا۔

تم نے آج کسی اور کی شادی میں اپنی شادی کا جوڑا کیوں پہن رکھا ہے ۔۔۔ میں نے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔

میں نے یہ اُتارا ہی کب تھا جو دوبارہ پہنتی ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ ہنس پڑی تو میں بھی مُسکرا پڑا۔

پتا ہے جہانزیب ۔۔! میں تم کو آج آخری بار دیکھنے کے لئے آئی ہوں ۔ میں نے اس وقت کا پُورے آٹھ برس انتظار کیا ہے کیونکہ میں نے اُس دن جاتے وقت تم کو دیکھا نہیں تھا ۔۔ تم تو جانتے ہو کہ جب بھی ہم تم ملتے تھے ۔۔۔ میں تم کو اُس وقت تک دیکھتی رہتی تھی جب تک میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتے تھے۔

اُس کی اس بات نےگویا جیسے میرے دل کے زخموں کو ایک آگ سی لگا دی۔ میں اپنی آنکھوں میں آتی ہوئی نَمی کو روک نہیں سکا ۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میرے عقب سے کسی کے قدموں کی آواز سُنائی دی۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو غیاث چلا آرہا تھا۔
یار ۔۔ ! سگریٹ پینی ہی تھی تو ٹینٹ میں ہی پی لیتے ، اتنی سردی میں پینے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ویسے بھی یہ کوئی امریکہ نہیں ہے ، یہاں کوئی کچھ نہیں کہتا۔

میں نے فرح کی طرف مُڑ کر دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھی ۔۔۔ شاید غیاث کے آنے کی وجہ سے چلی گئی تھی ۔ مجھے ایک دن میں غیاث پر دوسری بار غصہ آیا۔

شادی کی رسومات سے فارغ ہوکر میں اور غیاث واپس گھر پہنچے ۔ آج غیاث کا میرے گھر ہی رات گذارنے کا ارادہ تھا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے ایک بار پھر سگریٹ سلگائی ۔ غیاث مجھے غور سے دیکھتا رہا ۔ کچھ دیر بعد اُس نے کہا ” یار جہانزیب ۔۔۔ مجھے تیرے غم کا ہمیشہ دُکھ رہے گا ۔ کوشش کر کہ تُو اُس کو بُھلا دے ۔ میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ بس ایک سگریٹ کا کش لے کر دھواں فضا میں چھوڑ دیا۔

اُس دن کے واقعے کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا ۔ وہ کہتا رہا ۔۔۔ مجھے معلوم ہے جب تُو نے یہ سُنا ہوگا تو تجھے کتنا دکھ ہوا ہوگا ۔۔۔ شاید اسی وجہ سے تُو نے ہم سب سے کوئی رابطہ نہیں رکھا کہ ہم اُسی واقعے کا ہی ذکر کریں گے۔

میری نظروں کے سامنے فرح کی شادی اور پھر اپنی امریکہ روانگی کا منظر گھوم گیا

اُس روز ہم جب تجھے چھوڑ کر گھر پہنچے تو بارش شروع ہو چکی تھی وہ مسلسل بولتا رہا ۔۔۔ ہمیں بھی اُس کی شادی کا دعوت نامہ ملا تھا مگر میں اور شاہد نہیں گئے ورنہ شاید یہ بات ہمیں اُسی رات معلوم ہوجاتی ۔

یار ۔۔۔ ! وہ تجھے بہت چاہتی تھی ۔۔۔ یہ تو بعد میں صبح مجھے فرح کی گلی میں رہنے والے میرے ایک دوست کے فون کرنے پر معلوم ہوا کہ برات والی رات ہی فرح نے خواب آور گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا ۔

ایک تبصرہ
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

ہمارے معاشرے کی تُنزلی کی وجوہات اور ان کا حل

آج کل وطن ِ عزیز جس صورتحال سے گذر رہا ہے ۔ اس سے ہر حساس آدمی فکر مند ہے ۔ خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو ۔ بحیثیت ِ مجموعی اگر دیکھا جائے تو پوری مسلمِ امہ ہی پریشان ہے ۔ پوری ملتِ اسلامیہ ایک سخت مشکل سے دوچار ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ جیسے لال مسجد کا سانحہ ہوا بلکل اسی طرح یہ ملت بھی جیسے ایک بڑی سی لال مسجد ہے ۔ اس کی قیادت کو دیکھیں ، لوگوں اور ان کے جذبات کو دیکھیں ، تو بلکل وہی صورتحال سامنے آتی ہے ۔ اس میں اسباب کیا ہیں ۔ وجوہ کیا ہیں ؟ یہ ایک لمبی اور تفصیلی بحث ہے ۔ ہمیں اس مسئلے کو اس طرح دیکھنا چاہیئے کہ آخر ا سکا حل کیا ہے ۔ ؟ یعنی یہ کشمکش جو مذہبی طبقات میں ہے ، سیکولر طبقات میں ہے ، سیاسی جماعتوں میں ہے ، حکومتوں میں ہے ، ملک کے عام افراد میں ہے ، علماء میں ہے ۔ آخر ا سکو کسی جگہ ختم ہونا چاہیئے ۔ یعنی ہر وہ شخص جو اس قوم اور ملک کیساتھ محبت رکھتا ہے ۔ اُسے دیکھنا چاہیئے کہ یہ کشمکش کیسے ختم ہوسکتی ہے ۔

تحقیق کے نتیجے میں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواہ ترکی ہو ، انڈونیشیا ہو ، سعودی عرب ہو ، مراکش ہو یا اپنا وطنِ عزیز ہو ۔ وہاں چند بینادی نکات ایسے ہیں ۔ جو ہماری ملت میں سرے ہی سے منقود ہیں ۔ ان باتوں کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کہ وجہ سے یہ کشمکش کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ اور یہ کشمکش مخلتف طبقات میں اب جنگ وجدل کا مظہر بن چکی ہے ۔ ان نکات کو اہمیت کی ترتیب کے لحاظ میں یہاں بیان کرنے کی جسارت کررہا ہوں ۔

1 - پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور دنیا کی اقوام بھی صدیوں کے مختلف تجربات کے بات اس نتیجے پر پنہچیں ہیں کہ جہموری معاشرے کو قائم ہونا چاہیئے ۔ یہ پہلی بنیادی چیز ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت جو ” اَمرًھُم شُوریٰ بنًیھُم ” کی بنیاد پر وجود میں آئے ۔ لوگوں کی تائید سے قائم رہے ۔ اور ان کی تائید سے محروم ہونے کے بعد اپنا جواز کھو دے ۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ آئین کو توڑ دے ۔ یا وہ کوئی ماورائے آئین اقدام کرے ۔ ایک حقیقی جہموریت ہماری ضرورت ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت سے ہی ایک عام آدمی کو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ رائے عامہ کی طرف جائے ۔ جو لوگوں کے افکار پر اثر انداز ہو ۔ اور اس طرح کے پُرامن ذرائع سے ملک میں‌تبدلیاں لانے کے امکانات پیدا کرے ۔ مثبت تبدلیوں ‌سے معاشرے کو درست کرنا انسان کا حق ہے ۔ اس کا طریقہ کیا ہے ۔؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کا حق دیں ۔ اور قوم کے اس حق کو تسلیم کریں ۔ پارلیمنٹ کو حقیقی بالادستی حاصل ہو ۔ اور ایسا جہموری نظام وجود میں آئے جہاں مذکرات ہو سکیں ، جس میں اختلاف کو برداشت کیا جائے ۔ تو پھر مذہبی طبقات کو بھی یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ اگر وہ کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیں تو وہ لوگوں کی طرف رجوع کرکے ان کے دل و دماغ کو بدلیں ۔ تشدد صرف اسی صورت میں‌ پیدا ہوتا ہے جب آپ یہ راستہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور لوگ مجبوراً اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیئے پھر غلط طریقے اختیار کرتے ہیں ۔

2 - دوسری چیز یہ ہے کہ نظام تعلیم کے بارے میں لوگ حساس ہوں ۔ کیونکہ نظامِ تعلیم ہی وہ چیز ہے جس سے آپ کسی قوم کو بناتے ہیں ۔ پڑھا لکھا طبقہ ہی پوری قوم پر موثر ہوتا ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی قوم تین نظامِ ہائے تعلیم میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اب اس میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق موجود ہے ۔ اردو اور انگریزی کی تفریق موجود ہے ۔ دانشوروں کے مطابق بارہویں جماعت تک تعلیم ہر حال میں یکساں ہونی چاہیئے ۔ کسی شخص‌کو اس بات کی اجازت نہیں‌ ہونی چاہیئے کہ وہ اس کے مقابلے میں‌کوئی متوازی نظامِ تعلیم قائم کرنے کی کوشش کرے ۔ پوری قوم کے بچے اور بچیاں بارہویں تک ایک ہی تعلیمی نظام سے گذریں اور پھر اس کے بعد شعور پختہ ہونے کے بعد اگر وہ کسی خاس شعبے میں جانا چاہیں تو بے شک ا سکو اختیار کریں کہ ان کو عالم بننا ہے ، انجینیئر یا پھر ڈاکٹر بننا ہے ۔ مگر اس تفریق نے پوری قوم کو چھوٹے چھوٹے جزیروں‌ میں بانٹ دیا ہے ۔ اور ہر نظام سے ایک نئی امت پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ مدرسوں کی اصلاح سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جب تک ملکی سطح پر ایک یکساں منظم تعلیمی نظام وجود پذیر نہیں ہوگا یہ تفریق قوم کو یونہی بھٹکاتی رہے گی ۔

3 - ہماری مسجدیں ایک بہت بڑا انسٹیٹوشنز ہیں ۔ اور اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ جمعہ کا دن مقرر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کو مسجد سے متعلق کیا جائے ۔ اسلامی قانون کے مطابق جمعہ کا منبر حکمرانوں‌ کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ خطبہ دیں ۔ وہ نماز کا اہتمام کریں ۔ تاکہ معاشرے کے ساتھ ساتھ اللہ کے ساتھ بھی ان کا تعلق استوار ہو ۔ ہم نے یہ منبر علماء کے سپرد کردیا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور اسی کے نتیجے میں مذہبی لوگوں کے درمیان قلعے وجود میں آئے ۔ اس سے مسجدوں کی تفریق کی بنیاد پڑی ہے ۔ اب وہی مسجدیں اور مسجدوں کا منبر ہے جہاں سے ایک دوسرے کے خلاف فتوے داغے جاتے ہیں اور یوں فساد کا ذریعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ جگہ جو ہمارے لیئے عبادت کی مقدس جگہ تھی ۔ اب اسی کو ہم سیاست کا اکھاڑہ بنائے ہوئے ہیں ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں ریاست کے ذمہ دار لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی جائے کہ اللہ کے پغیمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منبر تمہارے سپرد کیا تھا ، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو ۔ اور جس طرح دوسرے کام کرتے ہو بلکل اسی طرح اس منبر کو بھی سنبھالو ۔ تاکہ یہ قومی وحدت کا ذریعہ بنے اور اس کے ذریعے ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو ۔

4 - یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں‌ لوگ زیادہ تر حساس سماجی برائیوں کے بارے میں ‌ہوتے ہیں ۔ جرائم کے بارے تو قانون سازی ہوجاتی ہے کہ پولیس اور فوج آگے آجاتیں ہیں‌ ۔ سماجی برائیوں کے بارے میں قرآن مجید نے بھی ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے ۔ پارلیمنٹ میں ‌قانون سازی کرکے ” معروف منکر ” کے حدود متعین کرکے ہمیں‌چاہیئے کہ ہم اس مقصد کے لیئے ایک الگ محکمہ قائم کریں ۔ مذہبی لوگ یہی مطالبہ کرتے ہیں ۔ یہ بات قرآن مجید میں بھی بیان ہوگئی ہے ۔ لہذا سماجی برائیوں کے لیئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے علماء کو بڑی حد تک اس سے متعلق کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح وہ بھی ریاست کے نظام کا ایک حصہ بن کر اسے ایک چلینج سمجھ کر خدمات انجام دے سکتے ہیں‌۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مطالبات کی صورت میں یہ چیزیں پیش ہوتیں رہیں گی اور ایک کشمکش کا میدان وجود میں آجائے گا ۔ سماجی برائیاں جیسے رشوت ، بدیانتی ، خیانت ، کم تولنا ، لوگوں‌ کیساتھ ظلم کیساتھ پیش آنا اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جس کا ہر حکومت قلم قلع کرنا چاہتی ہے ۔ لہذا اس کی قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ اس کے حدود قرآن نے متعین کردیئے ہیں اور پارلیمنٹ بھی متعین کر سکتی ہے ۔ اس سے کسی بھی خفلشار کا اندیشہ پیدا نہیں ہوگا ۔ جرائم کے بارے میں پولیس سختی کرتی ہے ۔ مگر سماجی برائیوں کے لیئے اصلاح کا طریقہ اپنایا جائے ۔ یعنی یہ کوئی لوگوں کو سزا دینے کا محکمہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اصلاح کا ، لوگوں سے رابطے کا ، یہ ایک سماجی شعور لوگوں میں بیدار کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیئے ۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ کام مذہبی لوگوں کے سپرد کردیا جائے ۔

5 - ہمارا عدالتی نظام جس حد تک پست ہوچکا ہے ۔ جس طرح لوگ اس نظام سے نالاں‌ ہیں اور جس قدر اس سے لوگوں کی شکایتیں‌ وابست ہوچکیں ہیں کیونکہ اس نظام میں انصاف بلکل منقود ہوچکا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف ، ریاست میں ترجیح نہیں ہے ۔ اگر آپ انصاف کا اہتمام کردیتے ہیں تو لوگوں کو ایک چینل مہیا ہوجاتا ہے جہاں‌ وہ جاکر باآسانی اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔ اور جو مشکلیں اور مصبیتیں ان کو درپیش ہوتیں ہیں ۔ وہ ان کا مداوا بنے کا موحب بن جاتا ہے ۔ انتشار اور خود ساختہ لاقانونیت ختم ہوجاتی ہے ۔

یہ وہ نکات ہیں کہ جو معاشرے میں‌ سرِفہرست موضوع بننے چاہئیں ۔ اس پر جہدوجہد ہونی چاہیئے ۔ اس پر ایک اتفاق رائے قائم ہونا چاہیئے ۔ تاکہ معاشرہ بحیثتِ مجموعی اس کو اپنے نظم کا حصہ بنائے ۔ اور جہاں تک میرے تاثر کی بات ہے کہ اگر ہم ا سکو اپنے معاشرے میں قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کمشکش کا بڑی حد تک خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔

6 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

مغربی تہذیب کی پسماندگی اور مذہب

مغرب اور ہمارے تہذیبی اقدار میں بنیادی فرق ہے ۔ انہوں نے پوپ سے آزادی حاصل کرنے کی جب تحریک چلائی تو بدقسمتی سے وہ تحریک حدود میں نہیں رہ سکی ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ اعلیٰ اقدار جن پر انسانیت فخر کرتی ہے اور جو انسانیت کا اثاثہ اور سرمایہ ہے ان سے بھی بعض لوگ بیگانہ ہوگئے ۔ وہ شاید اس فرق کو بھول گئے ہیں کہ فردِ مراتب کیا چیز ہوتی ہے ۔ ہمارے یہاں تہذیب کی سب سے بڑی شناخت ہی یہی چیز ہے ۔ ہم باپ کو باپ سمجھتے ہیں ۔ بھائی کو بھائی سمجھتے ہیں ۔ استاد کو استاد سمجھتے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں آداب کا ایک پورا نظم وجود میں آتا ہے ۔ اُن لوگوں نے جب آزادی اور آزادی کی لے کو حدود سے بڑھا دیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس بات سے آشنا ہی نہیں ‌رہے کہ پیغمبر کی ذات کی صفات کیا ہوتی ہیں ۔ ان کے ہاں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے ، ان کے ہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی ایک غیر معمولی اہمیت ہے ۔ وہ کبھی بائبل کا مطالعہ بھی کرتے رہے ہونگے ، انہوں‌ نے بھی کبھی تورات اور انجیل پڑھی ہوگی اور وہ یہ جانتے ہونگے کہ اللہ نے پیغمبروں کو کیا حیثیت دی ہے ۔ ہم مسلمان کیونکہ اس پوری روایت سے وابستہ ہیں چناچہ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہمارے لیئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہوں ، سیدنا مسیح علیہ السلام ہوں ، سب یکساں حرمت کے درجے میں ہیں ۔ اور ہم ان سے غیر معمولی محبت رکھتے ہیں ، غیر معمولی عزت کرتے ہیں ۔ انبیاء السلام کو کیا درجہ دینا چاہیئے قرآن مجید نے خود اس کو بیان کیا ہے ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہمارے جو احساسات ہیں ۔ ان سے وہ غالباً واقف ہی نہیں ہیں ۔ مسئلہ دراصل یہ ہوا ہے کہ اعلی تہذیبی اقدار کو مغرب نے آزادی کی لے بڑھاتے بڑھاتے فراموش کردیا ہے ۔ ان کو یہ احساس ہی نہیں رہا کہ انسانی رشتوں کے درجات اور تقدس کیا ہیں ۔ حفظِ مراتب کی تہذیب کو فراموش کردینے کے نتیجے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آزادیِ اظہار کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کسی بھی بڑی سی بڑی شخصیت کا مضحیکہ اڑا دیں ۔ وہ اس بات سے واقف نہیں رہے کہ تنقید کچھ اور چیز ہے ، کسی نقطعہ نظر سے اختلاف کوئی اور چیز ۔ اور تضحیک بلکل کوئی اور چیز ۔ مغرب کے آزادیِ اظہار کے حد سے گذر جانے کی وجہ سے وہاں اس نوعیت کی ایک نفسیات بن گئی ہے ۔ اور یہ معاملہ صرف اخبارات تک ہی محدود نہیں ہے ۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں ہم کو انٹرنیٹ پر جا بہ جا نظر آ جائیں گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہذیب کی ، اقدار سے ایک فرد کی جو وابستگی ہوتی ہے وہ کمزور پڑتی جارہی ہے ۔ میرا تو احساس یہ ہے ہم سے زیادہ ان کو فکرمند ہوناچاہیئے ۔ کیونکہ انسان کا شرف تو یہی ہے ۔ جانور اور انسان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان اپنی تہذیب کرتا ہے ۔ مجھے آپ سے بات کیسے کرنی ہے ۔ مجھے آپ کا لحاظ کیسے کرنا ہے ۔ اگر یہ چیز ختم ہوگئی ہے تو ایک انسان اور جانور میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے ۔ میں ‌جہاں ‌تک سمجھتا ہوں کہ آزادی کی لے بڑھاتے بڑھاتے انہوں نے آزادی کووہاں پہنچا دیا ہے جہاں ان چیزوں کے بارے میں ان میں کسی قسم کا شعور باقی نہیں رہا ۔ ہمیں یہ چاہیئے کہ ہم ان کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ تہذیب کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تہذیب کے تقاضے کیا ہوتے ہیں ۔ آپ کسی شخصیت کے بارے میں جس کو ایک ارب مسلمان اپنے باپ کی طرح اہمیت دیتے ہیں ۔ بلکہ باپ کیا چیز ہے ؟ ۔ جب ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے ماں‌ باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ہمارے ان احساسات کو وہ محسوس کریں اور وہ یہ جانیں کہ یہ احساسات ہمارے اندر کتنے اُترے ہوئے ہیں ۔

اسلام کی شخصیات اور تعلیمات تو ایک طرف ، خود ان کا اپنا مذہب اور دین بھی اس عزت اور احترام کے مقام پر نہیں رہا جس جگہ اس کو رہنا چاہیئے ۔ ہم جب باپ سے بھی کسی قسم کی بحث کرنے جاتے ہیں تو اس میں بھی کچھ اقدار کا ، کچھ تہذیبی روایات کا خیال رکھ کر بحث کرتے ہیں ۔ اس چیز سے وہ اپنے بچوں کو تربیت ہی نہیں کرتے ۔ برسوں ان کو بتاتے ہی نہیں‌ ہیں کہ ان اقدار کا خیال بھی رکھنا ہے ۔ سو آہستہ آہستہ ان میں انسانی خوبیاں کم ہوتیں چلیں جاتیں ہیں ۔ مغرب اپنی بہت سی انسانی اقدار پر بہت فخر کرتا ہے ۔ انسانی حقوق کے بارے میں وہ خیال کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس کا علمبردار ہے لیکن فردِ مراتب کے معاملے میں ان کے ہاں تہذیبی کمزوری واقع ہوئی ہے ۔ یہ احساس ہی ناپید ہوگیا ہے کہ آپ کس سے اور کیا بات کرر ہے ہیں ۔ پغیمبر کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب کسی سیاسی لیڈر کا کارٹون بنایا جاسکتا ہے تو کسی پغیمبر کا بھی بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ سو فیصد انسانیت کا زوال ہے اور ہمیں ان کے ساتھ یہیں سے بات کرنا چاہیئے کہ بتایئے ؟ انسانیت کس چیز کا نام ہے ۔ ؟ دراصل انسانیت حفظِ مراتب کا ہی نام ہے ۔ ایک دوسرے کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنے کا نام ہے ۔

توہینِ رسالت اور پیغمبروں کی تضحیک کرکے اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہم سے کوئی جنگ کرنی ہے تو انہوں نے بہت غلط میدان کا انتخاب کیا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ کسی اور میدان میں آتے تو وہ ہم کو تقسیم کر نے میں کامیاب ہوجاتے ۔ لیکن وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں ہمارے درمیان شاید ہی کوئی اختلاف پیدا کیا جاسکے ۔ ایک ارب مسلمانوں کے درمیان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ تعلق ، محبت ، آپ کی حرمت کے احساس میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا ۔ یہ واحد جگہ ہے جہاں ایک مراکش کے مسلمان اور انڈونیشیا کے مسلمان کے درمیان کوئی اختلاف ہو نہیں سکتا ۔ ایک عقلی اور جذباتی آدمی کے درمیان کوئی فرق نہیں رہ سکتا ۔ یعنی کوئی عقلی آدمی ہو اور وہ شخص ( جس نے یہ خاکے بنائے ہیں ) اس کے سامنے آجائے تو بہت کم امکان ہے کہ وہ عقلی آدمی اپنے آپ پر قابو رکھ سکے ۔ چناچہ ہمارا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ جو تعلق ہے ۔ مغرب کو اس کو سمجھنا چاہیئے ۔

ان خاکوں کے بارے میں جو ردعمل سامنے آئے ہیں اور ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔ ان کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ ہمیں ہر ایسے موقع پر یہ کام کرنا چاہیئے کہ ہم اپنے ہر احساس اور جذبات کو نہایت شائستہ اور تہذیب یافتہ انسانوں کی طرح ان کی طرف منتقل کریں ۔ یعنی ہم مغرب کو مخاطب کریں اور ہمارے لکھنے والے لکھیں ۔ قلم اٹھائیں اور ان کو یہ بتائیں کہ تہذیبی اقدار کیا ہوتیں ہیں ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم لے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے ۔ دوسرا تاثر یہ کہ ، جب کوئی شخص ایسا کام کرتا ہے تووہ اسلام کے کسی حکم کو تحضیک کا موضوع بنائے گا یا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے کسی پہلو کو ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دعوت کا بہترین موقع ہوتا ہے ۔ اس موقع پر ہم قلم اٹھائیں اور اس معاملے کی وضاحت کریں ۔ اس طرح یہ دین کے پیغام کو پہنچانے کا بھی ایک ذریعہ بنتا ہے ۔ بے شک جو شخص اس معاملے کا ذمہ دار ہے وہ سنیں یا نہ سنے مگر وہ لاکھوں ، کروڑ لوگ ضرور سنیں گے ۔ جو اس وقت اس طرف متوجہ ہیں ۔ اسلام کا روشن چہرہ ان کو دکھایا جائے ۔ اور یہ بتایا جائے کہ پیغبر کی سیرت کیسی اُجلی سیرت ہے ۔ تیسرا مظاہرے ہیں ۔ یہ ایک معاشرتی حق ہے کہ جب آپ اپنی بات اجتماعی طور پر سمجھانا یا سنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیئے آپ پُرامن مظاہروں کا بھی حق رکھتے ہیں اور ایسے مظاہرے مغرب میں بھی کیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ جب ہم ایسے مظاہروں میں نکلیں تو دنیا یہ دیکھے کہ ہم اس پیغمبر کی حرمت کے لیئے نکلے ہیں جس نے انسان کی جان ، مال اور آبرو کو حج الودع کے موقع پر یہ درجہ دیا تھا کہ ” میں اس دن میں کھڑا ہوں ، جو ایک مقدس ترین دن ہے یعنی فرمایا کہ مکہ میں کھڑا ہوں ۔ ایک حرمت میں کھڑا ہوں ۔ جیسے ان چیزوں کو حرمت حاصل ہے اسی طرح حرمت انسانی جان کو حاصل ہے ، انسان کے مال کو حاصل ہے ، انسان کی آبرو کو حاصل ہے ۔ ” لہذا مسلمانوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہو ئے ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے کہ جب وہ باہر نکلیں تو انتہائی شائستگی سے ، نہایت تہذیب کیساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں ۔ اور اس بات کا خاص اہتمام کریں کہ کسی شخص کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔

آزادیِ حریت ہمارے ہاں بھی ایک بہت بڑی چیز ہے ۔ ہمارے پرودگار نے تو قرآن میں یہ آداب سکھائے ہیں کہ ” تم کسی کے بتوں کو بھی برا بھلا نہ کہو ۔ ” ظاہر ہے اسلام توحید کا دین ہے لیکن اس کے باوجود قرآن مجید نے ہم کو یہ تاکید کی ” تم بُتوں کو بھی بُرا بھلا نہیں کہنا کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس طرح کی بات کرو تو وہ پلٹ کر تمہارے پرودگار کے بارے میں کوئی بری بات کہہ دیں ۔ ” یہ کیا چیز ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آداب کا خیال رکھو ، ہم شرک کی تردید کریں گے ، اس کی غلطی واضع کریں گے ۔ لیکن زبان اور ہاتھ دونوں سنبھال کر رکھیں گے ۔ اسی طرح اگر اسلوب کا خیال رکھا جائے تو مغرب بھی ہم سے اختلافات کی بات کرے تو شائستگی کے ساتھ کرے ، تہذیب کیساتھ کرے ۔ دن میں کرے ، رات میں کرے ۔ لہذا انہوں نےخاکوں کی صورت میں جو یہ معاملہ کیا ہے ، ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ اور ہم اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی تہذیبی پسماندگی کا نشانہ کسی مذہب یا کسی پیغمبر کو بنائیں ۔

تبصرہ کریں
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

مزاج کے تغیرات !

انسانی فطرت بھی عجیب شے ہے ۔ جو اکثر مزاجوں کے تابع رہتی ہے ۔ مزاج میں تغیرات ، انسانی فطرت کی شناخت کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ جس سے کئی ایسی غلط فہمیاں وجود میں آجاتیں ہیں کہ ایک اچھا خاصا بھلا انسان پیدائشی خوش مزاج کے ہونے باوجود مزاج میں معمولی سی تغیر کی تبدیلی کی وجہ سے اپنی فطرت کے برعکس تاثر چھوڑ دیتا ہے ۔ایسی صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب انسان کے احساسات اس کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کے اندر ، خوشی و غم کا توازن باہر کی دنیا سے قدرے مختلف ہوگیا ہے ۔ لہذاٰ ایسی صورت میں وہ اپنی فطرت کے خلاف اپنے اندر کے احساسات کا توازن باہر کی دنیا کے مقابلے میں لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جس سے اس کی فطرت کا وہ کردار پس ِ پشت چلا جاتا ہے ۔ جو اسے پیدائشی طور پر ودیعت کی گیا تھا ۔

مزاج کے تغیرات کا تعلق براہ راست انسان کے محسوسات کے نشب و فراز سے ہوتا ہے ۔ جو ظاہر ہے حساسیت کی لڑیوں میں پرویا ہوا ہوتا ہے اور یہ حساسیت ایک انتہائی درجے پر جا کر مزاج کے تغیر کا باعث بنتی ہے ۔ حساسیت انسان کی خواہشات ، ضروریات ، سوچوں ، باہر کے موسموں اور وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی رہتی ہے ، بعض لوگوں میں یہ حساسیت انتہائی درجے کی ہوتی ہے کہ وہ پل میں خود کو خوش یا افسردہ کر لیتے ہیں اور بعض لوگوں میں یہ حساسیت اس قدر ناپید ہوتی ہے کہ وہ بڑی سی بڑی بات کو باآسانی نظر انداز کر جاتے ہیں ۔

ہر انسان اپنے احساس کے ردعمل کا پابند ہے ۔ مگر یہ ردعمل بھی انسان کی اُس قوتِ برداشت کے زیرِاثر ہوتا ہے جس کے ذریعے انسان اپنے ردِعمل کو ایک توازن میں رکھتاہے اور یہی توازن انسان کے مزاج کو کنٹرول کرتا ہے ۔ پس صبر وتحمل اور برداشت ہی ایسے عناصر ہیں جو انسان کو اسکی ودیعت کی ہوئی فطرت کے مطابق ایک اخلاقی دائرے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح انسان کی فطرت کا توازن قائم رہتا ہے ۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اس توازن کو کس طرح اپنی خواہشات ، ضروریات اور وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ باہر کی دنیا کے مقابلے میں رکھ کر ان کا اپنی فطرت کے مطابق صحیح استعمال کرتا ہے ۔

تبصرہ کریں
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

اسلام اور موسیقی

مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :

آئینہِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں

کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟یہ سوالات موجودہ دور کے ہر مسلم معاشرے کے افراد کے ذہن میں‌ پائے جاتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ قرآن و سنت سے ہم کو کیا اور کہاں تک رہنمائی ملتی ہے کہ موسیقی کے حلال اور حرام ہونے کے صحیح جواز کو سمجھا جا سکے اور دلائل اور استدلال کیا کہتے ہیں کہ موسیقی کہاں تک جائز ہے یا پھر صریحاً حرام ہے ۔

جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )

ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔

ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔

سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک دائرے کا سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔

کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔

واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔

اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں دین میں یہ کوئی مثبت رویہ نہیں ہے ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانا جاسکتا ہے ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ

” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح یکجا کیا جاتا ہے ۔

اس سلسلے میں دو کتابیں قابلِ ذکر ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے۔
دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔

5 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

اختتامِ سفر پر پیار آیا

آج کافی برسوں بعد جب میں نے وطن کی سرزمین پر پاؤں رکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے جلتے تلوں کے نیچے ٹھنڈے پانی سے بھیگے ہوئے ہزاروں گُل بچھا دیئے ہوں ۔ وطن کی مٹی کی خوشبو نے مجھے یاد دلایا کہ میں اب تک ایسے سفر میں رہا ، جس میں مجھے ہر قدم پر آبلہ پا ہی ہونا پڑا تھا۔ کم پا کر بہت کچھ لٹا کر واپس آیا تھا۔ زندگی کے بہت سے ماہ و سال ، ایک اچھی زندگی کی خواہش میں ہاتھ سے اس طرح چُھوٹ گئے تھے جیسے کوئی عمر بھر ایسا کاسہ ہاتھ میں لیئےکھڑا رہے جس میں مادی چیزوں کا انبار تو موجود ہو مگر وہ کسی خوشی کے سکے سے محروم ہی رہے ۔ زندگی کو ایک اُجلے دامن کی طرح اور آنکھ میں جانے کیسے کیسے خواب سجا کے گھر سے نکلا تھا۔ مگر واپسی پر نہ صرف خواب ریزہ ریزہ تھے، بلکہ دامن بھی تار تار تھا۔ائیر پورٹ سے گھر تک کا سفر کار میں امی اور ابو کے درمیان بیٹھ کر ہی طے کیا ۔ اُن دونوں کے وجود سے مجھے ایک تحفظ کا سا احساس ہو رہا تھا اور مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں کسی سخت جلتی ہوئی دوپہر میں دو سایہ دار شجروں کے بھر پُور سایے میں آگیا ہوں۔

گھر پہنچ کر امی نے مجھے سب سے پہلے آرام کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ ابو نے بھی اس کی تائید کی ۔ میں نہا دھو کر اپنے کمرے میں آیا تو دیکھا کہ میرا کمرہ آج بھی اُسی حالت میں ہے جیسا کہ میں آج سے بہت سالوں پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔ ہر چیز قرینے سے رکھی ہوئی تھی ۔ کسی چیز پرگرد کا نام و نشان تک نہیں تھا ۔ کمرے کی حالت دیکھ کر لگتا تھا کہ میرے بعد اس کمرے کی خاص طور پر دیکھ بھال کی گئی ہے ۔ میں اپنے بیڈ پر لیٹ گیا ۔اچانک ہی ایک خیال نے مجھے اپنے بستر سے اُٹھنے پر مجبور کردیا ۔ میں ہمیشہ کی طرح اُسی کھڑکی پر جا کھڑا ہوا جو اُس کے گھر کی طرف کُھلتی تھی ۔آج بھی اُس کا گھر چند ایک تبدیلوں کے ساتھ میری نظروں کے سامنے تھا۔ مگر میں جانتا تھا کہ وہ اب یہاں نہیں ہے ۔ میرے وطن چھوڑنے سے پہلے ہی وہ اپنے پیا کے گھر جا چکی تھی۔ مجھے بھی کچھ تبدیلیوں کی ضرورت تھی ، لہذاٰ میں نے بھی وطن چھوڑ دیا ۔میری نظر میرے گھر کی آنگن کے اُس حصے میں بھی پڑی جہاں ہم کھیلا کرتے تھے ، کبھی آنکھ مچولی تو کبھی گڑیا گُڈے کی شادی کا کھیل ۔

دیکھو ۔۔۔ تم کو میرا ہی دولہا بننا ہے ۔۔۔ خبردار اگر کسی اور کا دولہا بننے کی کوشش کی ۔ اگر کسی کے بن بھی گئے تو میں تًم کو اپنا دولہا بنا کر ہی رکھوں گی ۔۔۔سمجھے” ۔ اچانک ہی بچپن کا ایک واقعہ نگاہوں میں گھوم گیا -

“ارے پگلی ۔۔۔ یہ میری اور تمہاری شادی تھوڑی ہو رہی ہے ۔ یہ تو گڑیا اور گڈے کی شادی ہے “۔ میں اسے سمجھاتا۔
ہاں میں جانتی ہوں ۔۔۔ مگر میں تو اپنی اور تمہاری بات کررہی ہوں ناں ۔
بات سمجھ میں آجانے کے بعد جب میں مسکرا کر اُسے دیکھتا تھا تو ایک دم سے وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھ میں چُھپا کے شرما کر بھاگ جاتی ۔ ( میں جب بھی اُس کی آنکھوں میں جھانکتا تھا وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی )۔
ارے ۔۔۔ ہم براتیوں کو مھٹائی کون کھلائے گا اور یہ اپنی گڑیا کو چھوڑ کر کہاں بھاگ رہی ہو۔
بچپن کی ساتھیوں میں سے نائلہ کا جملہ بھی میرے کان میں سرگوشیاں کرنے لگا ۔جو اُس وقت اپنے بھائی علی اور دیگر دوسرے بچپن کے ساتھیوں کے ساتھ گڑیا کی ماں بن کر آئی تھی ۔

عجب دور تھا وہ ۔۔۔ کوئی غم تھا نہ کوئی فاقہ !

شام کو تازہ دم ہو کر باہر نکلا تو لوگوں نے مجھے پہچان کرخوش آمدید کہا ۔۔۔ کافی بُزرگ اب دنیا میں نہیں رہے تھے ۔ کچھ دوست یار بھی ذریعہ معاش کے چکر میں وطن سے باہر تھے یا پھر اپنی ضرورتوں کے مطابق شہر کے کسی اور حصے میں منتقل ہو چکے تھے۔ مگر میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب میں نے اپنے بہت ہی دیرینہ دوست کو وہاں پایا ۔
ارے فواد ۔۔۔۔ تُو ۔ ! ، تُو کب واپس آیا ؟ ۔
ارشد نے مجھے ایک زمانے کے بعد دیکھا تو بہت خوش ہوا ۔
” بس یار ! کل ہی واپسی ہوئی ہے ۔ تُو سُنا کیسا ہے ۔۔۔ ؟ یہ تیرا بیٹا ہے ؟ ” ۔ میں نے اُس کے جسم سے تقریباٰ لپٹے ہوئے ایک بچے کو دیکھ کر کہا ۔
ہاں یہ میرا تین سالہ بیٹا واحد ہے ۔۔۔ اور ابھی تک واحد ہی ہے ۔
ہم دونوں کھلھلا کر ہنس پڑے ۔
لگتا نہیں ہے مگر مان لیتا ہوں کہ اتنا خوبصورت بچہ ہےتیرا ۔۔۔ یقینا بھابھی پر ہی گیا ہوگا۔
ہم ایک پھر ہنس پڑے۔

اس کے ساتھ کچھ دیرگذارنے کے بعد میں گھر واپس آگیا ۔ مغرب کا وقت ہوا چلا تھا ۔ میں نے گھر کے آگے والے حصے یعنی لان میں بیٹھنے کے بجائے گھر کے پیچھلے حصے آنگن میں ہی بیھٹنے کو ہی ترجیح دی ۔ پتا نہیں گھر کے اس حصے سے مجھے کسی قسم کی اُنسیت تھی کہ پردیس میں بھی میں اسے ہی یاد کرتا تھا۔

بیٹا ۔۔۔ میں چائے لاتی ہوں تُم بیٹھو۔
امی نے کچن سے آواز لگائی جہاں سے آنگن واضع طور پر نظر آتا تھا۔
امی نے چائےلا کر میز پر رکھی تو میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اب وہ کیا پُوچھنے والی ہیں۔
بیٹا ۔۔۔ جو ہوگیا آسے بھول جا ۔۔۔ یہ سب قسمت کے کھیل ہیں ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔
ہاں اپنی آپ ٹھیک ہی کہتی ہیں ۔ مگر میں اپنے وجود کے جن حصوں کو وہاں چھوڑ کر جو آیا ہوں ۔ وہ کیسے بھلائے جا سکتے ہیں ۔
اللہ نہ کرے کہ تم اُ ن کو۔۔۔ یا وہ تم کو بُھلائیں ۔۔ تم تو اُن سے وہاں مل بھی سکتے ہو اور تم نے ہی بتایا تھا کہ کورٹ نے تمہیں یہ اجا زت دے رکھی ہے کہ تم اُن کو گرمیوں کی چھٹی میں یہاں پاکستان بھی لا سکتے ہو۔
ہاں یہ تو ہے امی ۔۔۔۔ مگر میں اُن معصوموں کی ایسی تقسیم نہیں چاہتا تھا۔ مگر قدرت نے میرے لیئے کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے ۔ تم نے اپنی طرف سے مصحالت کی پوری کوشش کی ۔ یہ سب جانتے ہیں ۔ مگر وہ عورت پر مغربیت کا جو بُخار چڑھا ہوا ہے ۔۔۔ تم دیکھنا ایک دن وہ اُسے لے ڈُوبے گا۔
امی روایتی کوسنے پر آگئیں تو میں نے باتوں کا سلسلہ موقوف کردیا۔
چائے ختم کرنے کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا اور چُپکے سے سگریٹ سلگائی ۔ امی اور ابو کو یہ علم نہیں تھا کہ میں نے سگریٹ پینا شروع کردی ہے۔

میں امریکہ میں گذارے ہوئے اپنے قیمتی سالوں کو تو بھول سکتا تھا ۔ مگر میں اپنے اُن بچوں کو نہیں بھول سکتا تھا ۔ جن کے لیئے میں نے ہر قدم پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ میری یہ قربانی جب سارہ کے لیئے ایک بلیک میکنگ کا راستہ بن گئی تو مجھے احساس ہو گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ علیحدگی اختیار کر لی جائے کہ جب میاں اور بیوی کے درمیان رشتہ صرف ایک کاروبار کی حثیت اختیار کر لے تو پھر اس رشتہ کو طول دینا کسی بھی طور سے مناسب نہیں۔

میرے اس فیصلے سے سارہ کو بیحد خوشی ہوئی۔ اور مجھے تو ایسا بھی لگا کہ شاید وہ جان بُوجھ کر ہی ایسے اقدام اُٹھاتی تھی کہ میں امریکہ کے قوانین کے مطابق علیحدگی کا فیصلہ خود ہی کورٹ تک لے کر جاؤں ۔ بعد میں میرے خدشے کی تصدیق بھی ہوگئی کہ اُس نے سال کے اندر اندر دوسری شادی کر لی ۔مگر بچے قانون کے مطابق بدستُور اُس کی ہی تحویل میں تھے ۔ مجھے ہفتے میں دو بار بچے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔

دوسرے دن مجھے کوئی خاص کام نہیں تھا ۔ بس ایسے ہی ارشد کے ساتھ طارق روڈ کی طرف نکل گیا۔
یار ۔۔۔ توُ طارق روڈ کو اب دیکھ کر حیران ہو جائے گا ۔ بہت ہی زیادہ ڈویلوپمینٹ ہوئی ہے اور بعد میں اُس کی بات کی تصدیق بھی ہوگئی کہ طارق روڈ پر کئی فلک بوس عمارتیں سے سر اُٹھائے مجھے کھڑی نظر آئیں ۔جو زیادہ تر کاروباری مقاصد کےلیئے بنائی گئیں تھیں کچھ دیر یونہی گھومتے گھومتے ہم ایک ریسٹورینٹ میں جا بیٹھے۔

کھانےکے آڈر کے بعد ارشد مجھے کچھ دیر دیکھتا رہا ، بلآخر پھر اس نے کہا ۔
“یار مجھے بڑا افسوس ہوا کہ تیری ازداوجی زندگی کامیاب نہیں ہوسکی ۔ تم نے فون پر کئی بار تذ کرہ کیا تو تھا ۔ مگر حالات یہاں تک پہنچیں گے ، کسی کو کیا خبر تھی۔
ہاں بس ۔۔۔ کچھ ایسا ہی ہو گیا ۔
میں نے مختصر سا جواب دیا تو وہ بھی خاموش ہوگیا۔
اچھا یاد آیا ! اگلے ہفتے میرے چھوٹے بھائی کاشف کی شادی ہے ۔ سب دوستوں کے ساتھ پُرانے ہمسایوں کو بھی بلایا ہے جو اب شہر کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہیں ۔ذرا موڈ ٹھیک کر کے آنا ، زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ویسے بھی پُرانے لوگوں سے مل کر تمہیں خوشی ہوگی۔
میں بس مُسکرا کر رہ گیا ۔

محبت میں ناکامی کے بعد میں نے امریکہ میں فطری خواہش کے مطابق سارہ کو اپنا جیون ساتھی بنایا ۔۔ کچھ عرصہ گذرنے جانے کے بعد مجھےاحساس ہوا کہ ہم دونوں کے درمیان صرف مزاج کے فرق کی خلیج ہی نہیں بلکہ مذہب اور کلچر کا واضع تضاد بھی موجود ہے ۔ مگر اُس وقت بچے دُنیا میں آچکے تھے۔ لہذاٰ میں نے اس فرق کو اپنا نصیب مان لیا ۔ مگر جب سارہ کی فطرت کے مذید منفی پہلو مجھ پر آشکار ہوئے تو پھر میں نے ہھتیار ڈال دیئے۔

انسان جب کچھ کھو دیتا ہے تو پھر اُسے وہ سب یاد آجاتا ہے ۔ جس کے کھونے میں اُس کا کوئی دوش نہیں ہوتا اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان آنے کے بعد پہلے دن ہی مجھے شبانہ کا خیال آگیا تھا ۔کیوں کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اُس کو کھونے میں کم از کم میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا ۔
شادی ہال میں کافی لوگ موجود تھے ۔ ارشد نے واقعی محلے کے پُرانے لوگوں کو بھی مدعو کیا تھا۔
مجھے اُن سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔ خاص کر شبانہ کے والد سے ۔ مگر مجھے شبانہ کے بارے میں پُوچھنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔
شادی کے آخری رسومات کا آغاز ہوچکا تھا ۔۔۔ زیادہ تر مہمان واپس اپنے گھروں کی طرف لوٹ چکے تھے۔ دولہا اور دولہن کے عزیز و اقارب فرداً فرداً دولہے اور دولہن کے ساتھ اپنی تصویریں اُتر وا رہے تھے ۔ میں بیزار ہوکر شادی ہال کے اگلے حصے میں آگیا جہاں ایک خوبصورت لان تھا ، وہا ں کچھ کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں ۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ جیب میں سگریٹ نکالنے کے لیئے ابھی ڈالا ہی تھا کہ وہ میرے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔
میرا ہاتھ میری جیب میں ہی رہ گیا ۔
کیسے ہو فواد ۔۔۔۔ ؟
میں ۔۔۔ میں ۔۔ ٹھیک ہوں ۔
میں گڑبڑا گیا ۔
تم سناؤں تًم کیسی ہو ۔ ؟
میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ بھی ٹھیک ہوں
اُ س نے میری نقل کی ۔۔۔۔ اور ہنس پڑی
میں بھی ہنس پڑا
میں نے اُسے غور سے دیکھا ۔
وقت نے گویا کہ اُ س کے چہرے پر گذرے ہوئے وقت کی کچھ نشانیاں ضرور چھوڑیں تھیں۔ مگر اُس کے چہرے کی دلکشی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔
کب آئے ۔۔۔ ؟
پچھلے ہفتے ۔
تم کہاں ہوتی ہو ۔۔۔ آج تمہیں دیکھ کر یوں لگا کہ صدیوں بعد دیکھا ہے ۔
فواد ۔۔۔ وقت تو انسان کے اندر اپنا سفر طے کرتا ہے اور مجھے نہیں لگا کہ میں نے تمہیں ایک زمانے کے بعد دیکھا ہے ۔
وہ کیوں ۔۔۔ ؟ میں نے حیرت سے پُوچھا۔
میں نے اپنی آنکھوں میں وقت کو روک دیا ہے اور تمہیں کبھی بھی اپنی نظروں سے اُوجھل نہیں ہونے دیا ۔
مجھے ایک احساسِ ندامت سا ہونے لگا کہ میں نے اُسے بھلا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا اور ایک وہ تھی کہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے کے باوجود بھی مجھے ہمیشہ یاد رکھا۔
میں خاموش رہا ۔
میرے ذہن کے پردے پر اس کی آخری ملاقات کا منظر لہرانے لگا ۔ جب وہ مجھے یہ بتانے آئی تھی کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ شادی کر رہی ہے ۔
میرے چہرے کے تاثرات سے شاید وہ کچھ اندازہ لگا چکی تھی کہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔
قصور میرا ہی تھا کہ میں اپنی پسند کے بارے میں اپنے گھر والوں کو نہیں بتا سکی کہ امی کا کینسر آخری اسٹیج پر تھا اور وہ بضد تھیں کہ میری شادی اُن کی بہن کے بیٹے کے ساتھ ہو۔
خیر ! بیتی ہوئی باتوں کو دُھرانے کا کیا فائدہ ۔ تُم سناؤں ؟ کیسی گذر رہی ہے ۔ تمہارے شوہر کہاں ہوتے ہیں ۔ اور ہاں بچے کتنے ہیں۔؟
میں نے بات کا رُخ بدلنے کی غرض سے کئی سوال کر ڈالے ۔
شادی کے تین سال بعد مجھے طلاق ہو گئی تھی ۔
میں ایک دم سے سناٹے میں آگیا ۔
معافی چاہتا ہوں ۔ میں اس بارے میں قطعاً کوئی علم نہیں تھا
کوئی بات نہیں ۔
مگر ایسا کیوں ہوا ۔۔ ؟ ، جبکہ وہ تمہارا اپنا کزن تھا
اس سے کیا فرق پڑتا تھا، شادی کے تین سال گذرنے کے باوجود میں جب ماں نہیں بن سکی تو اُس نے مجھے طلاق دے کر دوسری شادی کر لی۔
مجھ پر سوگواری کی سی کفیت طاری ہوگئی ۔
تم نے دوسری شادی کیوں نہیں کی ۔ میں نے آخر یہ سوال پوچھ ڈالا ۔
پتا نہیں ۔۔۔ کسی کے نام کے ساتھ اپنی زندگی گذارنے پر میں نے اپنی محبت کے سہارے زندگی کو ترجیح دی ہے ۔ مگر اب یہ نہیں سمجھ لینا کہ میں یہ کہوں گی کہ تم اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ کر میرے ساتھ شادی کرلو۔
یہ کہہ کر وہ کھکھلا کر ہنس پڑی ۔
میں قدرت کے کارخانے کےاس عجیب کھیل کے بارے میں سوچنے میں مجبور ہوگیا کہ اگر اُوپر والے کو ہم کو ملانا ہی مقصود تھا تو پھر یہ تھکا دینے والا طویل سفر طے کیوں کروایا ؟ ۔
میری بھی علیحدگی ہو چکی ہے ۔
میں نے قدرے توقف کے بعد اُس کو بتایا۔
اُس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا۔
وہ کچھ دیر سَکتے کی حالت میں مجھے دیکھتی رہی اور پھر کسی کی بھی پروا کیئے بغیر میرے گلے سے لگ کر بُری طرح رو پڑی۔

میں اور شبانہ آج بہت خوش ہیں ۔ اللہ نے اُس کو اولاد سے محروم رکھا تھا مگر میرے بچوں نے اُس کی ما ں کی کمی کو پُورا کردیا ۔ سارہ کی دوسری شادی اور بچوں کو وقت نہ دینے پر کورٹ نے بچوں کو میرے حوالے کردیا تھا۔شبا نہ نے ان بچوں کو وہ پیار دیا کہ میرے اپنے ہی بچے مجھے چھیڑتے تھےکہ ممی (شبانہ) یہ پاپا کون ہیں ۔
میں بھی کبھی شبانہ کو چھیڑ دیتا ہوں کہ اگر تم بچپن میں صرف یہ کہتیں کہ ”تمہیں صرف میرا دولہا بننا ہے تو شاید یہ ایسا ہی ہو جاتا” ۔
مگر شرما کر بھاگ جانے والی شبانہ میری بات سُن کر اب یہ کہہ کے مجھے لاجواب کردیتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے آنگن میں یہ پُھول سے بچے کہاں سے آتے “۔
میں بھی اس سارے عرصے پر جب ایک طائرانہ نظرڈالتا ہوں تو مجھے احساس ہوجاتا ہے کہ قدرت نے جس کٹھن سفر کے لیئے ہمیں مجبور کیا تھا وہ صرف ان بچوں کے وجود کے لیئے ہی مختص تھا۔ یہ اختتامِ سفر کو دیکھ کر میں ہمیشہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتا ہوں “

واہ ۔۔۔ اختتامِ سفر پر مجھے پیار آیا۔

7 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

منزل بے نشاں

میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ شخصیت پرستی اور جماعت پرستی بھی کیا چیز ہے ۔ آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے ۔ ایک واضع منظر سامنے ہونے کے باوجود لوگ وہ تبدیلیاں لانے چاہتے ہیں جو خود بھی ان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ مگر پھر بھی عوام شخصیتوں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی اندھی تقلید کرتی ہے ۔ ہماری تاریخ یہ بھی ہے کہ ہم چند سالوں بعد تبدیلی کو ناگزیر سمجھنے لگتے ہیں ۔ اور اس مقصد کے لیئے اپنے ” مخلص قائدین ” کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔ ہر دور ِ اقتدار میں یہ بات مسلسل تکرار کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ ” یہ ہماری تاریخ کا بدترین دور ہے ” اگر اس تکرار کا مشاہدہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ بھٹو کے دور کو قومی سلامتی کے لیئے بدترین دور قرار دیا گیا ۔ وہ رخصت ہوئے تو گلی کوچوں میں مٹھائیاں بانٹیں گئیں ۔ ابھی اسی مستی میں تھے تو معلوم ہوا کہ ملک مارشل لاء کی زد میں ہے ۔ اور پھر اسی طرح گیارہ برس گذر گئے ۔ پھر اسی دوران قوم کو یہ احساس ہوا کہ ضیاء کے دور سے ” بدترین دور ” پاکستان کی تاریخ میں نہیں آیا ۔ ایک حادثے کے بعد وہ گئے تو بینظیر آگئیں ۔ پھر ان کو دور کو بھی بدترین دور قرار دیا گیا اور پھر اسی طرح نواز شریف کا دور بھی ” بدترین دور ” کے زمرے میں آیا ۔ اور اب یہ تبدیلی کی خواہش موجودہ حکومت کے ساتھ ہے ۔ تاریخ کے تسلسل میں دیکھئے تو آج تبدیلی کی یہ خواہش کونسا دور لیکر آئے گی تو کوئی بعید نہیں کہ آنے والا دور بھی پچھلے ادوار کی طرح ” بدترین دور ” ہوگا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی بدترین کا حصول دراصل وہ تبدیلی کی خواہش ہے جو عوام چاہتی ہے ۔ ؟ ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں وہ خیر کے راستے پر کیوں نہیں جاتی ۔ ؟ اس کے وجود پذیر نہ ہونے کے عوامل کونسے ہیں ؟ میرا خیال یہ ہے کہ محض تبدیلی کسی خیر کا باعث نہیں بن سکتی ۔ کیونکہ اس خیر کا تعلق ہماری اپنی اصلاح سے ہے ہماری اپنی کوتاہیوں سے ہے ۔ جسے ہم نظرانداز کیئے بیٹھے ہیں ۔

میں جب بھی پاکستان گیا ، دیکھا کہ بڑی اور عام شاہراہوں پر واضع ٹریکس موجود ہونے کے باوجود عوام ان کے درمیان متوازی سفر نہیں ‌کرتے، ہم ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر ایسی صورتحال میں چلنے کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں ۔ ؟ ہماری سیاسی و شعوری بصیرت ہماری وسعتِ نظر سے مشروط ہے ۔ مگر ہم ساٹھ سال سے دیوار سے ناک لگائے دیوار کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ یہ بات اب ہمیں سمجھ آجانی چاہیئے کہ ہمارا سیاسی کلچر ایسا ہے کہ اس میں ریاست و حکومت کے معاملات جن کے ہاتھ میں ہیں ان کا تعلق چار گروہوں سے ہے ۔ جاگیردار ، سرمایہ دار ، فوج اور مذہبی پیشوا ۔ اکثر یہ گروہ شراکت ِ اقتدار کے اصول پر باہم مجتمع ہو کر ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں ۔ تاریخ یہ بتاتی ہے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بلعموم وہ پلیٹ فارم ہیں جنہیں یہ گروہ بالواسطہ یا بلا واسطہ سیاسی و جمہوری تاثر دینے کے لیئے استعمال کرتے ہیں ۔ مذہیب پیشوا البتہ قدرے تاخیر سے اس کلب میں شامل ہوئے ۔ انہوں نے ایک محدود سطح پر مذہبی و مسلکی عصبیت کو سیاسی عصبیت میں بدلنے کا کامیاب تجربہ کیا ۔ ان گروہوں کے ہاتھوں ہم نے اپنی قسمت سونپ دی ہے ۔ اگر تبدیلی کی کوئی خواہش قومی سطح پر ابھرتی ہے تو وہ بھی ان گروہوں کے موجودہ طرزِ حکومت سے اکتاہت اور بیزاری سے متاثر ہوتی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کسی کو ہماری قسمت بدلنے کا خیال آگیا ہے ۔

پاکستانی عوام ، کبھی اس طرح ہمارے لیڈروں کی سوچوں‌کا مستحق نہیں بنی کہ بطور انسان ان کے حقوق کیا ہیں ۔ حکومتوں ، سیاسی جماعتوں اور اصلاح ِ معاشرہ کے علمبرداروں نے کبھی ایسی معاشرے کی تشکیل کے لیئے جہدوجہد نہیں کی جہاں انسانوں کو بطور انسان تکریم دی جاسکے ۔ اگر ہمارے رہنما عوام کو انسان نہیں سمجھیں گے تو معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی ۔ اسی طرح یہ بھی انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب اور نظریے کا چاہے انتخاب کرے ۔ اگر ہم اس کو مان لیں تو معاشرے سے مذہبی وغیرہ مذہیی ، ہر طرح کی انتہا پسندی سے نجات پالیں گے ۔ روٹی ، کپڑا اور مکان بھی انسان کے بنیادی حقوق میں سے ہے ۔ اور جب یہ گروہ اس حق کو تسلیم کریں گے تو معاشرے میں کسی معاشی انقلاب کے امکانات پیدا ہونگے ۔ مگر ان سب سے پہلے عوام کو اپنی ترجیحات بدلنی پڑیں گی، اپنی اصلاح کرنی پڑے گی ، اپنے روایتی اقدار کو دوبارہ زندہ کر کے تحریکِ پاکستان جیسی فضا بنانی پڑے گی ۔ تب کہیں ‌جا کر معاشرے میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار پیدا ہونگے ۔ بصورت دیگر ایک ” بدترین دور” کے خاتمے کے لیئے ایک ” بدترین دور ” ہمیشہ ہمارا منتظر رہے گا ۔ اور جو سفر ساٹھ سالوں سے ایک دائرے میں طے کیا جارہا ہے ۔ اس کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا ۔

2 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com

خود کلامی

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود کلامی ایک منفی عمل ہے ۔ مگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو دنیا کا تقربیاً ہر شخص ہی خود کلامی کا شکار ہے ۔ خواہ یہ خود کلامی زیرِ لب پھڑ پھڑاتی ہو یا دل کی اتھاہ گہرائیوں میں سرگوشیاں کرتی ہو ۔ دونوں ہی صورتیں خود کلامی کی گویا اشکال ہیں ۔ اندر گھٹن پیدا ہوجائے تو خود کلامی کا وجود ناگزیر ہوجاتا ہے ۔خود کلامی احساس کے ایک ایسے ردعمل کا نام ہے جو سوچوں کی بند گلیوں سے فرار چاہتاہے ۔ خود کلامی یہ باور کرواتی ہے کہ کبھی کبھی خود سے بھی بات کر لی جائے ۔ مگر کچھ لوگ اپنے اندر کوئی جگہ بنانا کر خود کلامی کو دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر یہ عمل بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے ۔ کیونکہ بعض اوقات کئی احساسات جو اپنی کوئی شناخت بنا کر ابھرنا چاہتے ہیں ، وہ اندر ہی کہیں گم ہوجاتے ہیں اور آدمی ان کو اپنے کسی گمشدہ بچے کی طرح تلاش کرتا رہ جاتا ہے ۔احساسات انسان کی زندگی کا ضامن ہوتے ہیں ۔ جو روح کو متحرک رکھتے ہیں ۔ اگر خود کلامی کو قوتِ گویائی مل جائے تو بہت سی باتیں دل کی بھول بھلیوں میں روپوش ہونے سے بچ جاتی ہیں ۔ پھر آدمی ان کو پرکھ سکتا ہے ، سمجھ سکتا ہے ، قبول کر سکتا ہے ، رد کر سکتا ہے ۔ کیونکہ آواز کی بازگشت خود کلامی کی نتیجے میں ہونے والی گفتگو کو ایک ساخت میں ڈھالیتی ہے ۔ اور پھر یہ ساخت ایک شناخت بن کر چاہے کاغذ پر تحریروں کی صورت میں نمودار ہو جائے ، یا چند مثبت جملے بن جائیں ، یا پھر کسی کینوس پر اپنے رنگوں کےاثرات چھوڑ دے ۔ بہر حال خود کلامی کی ایک شکل ہی ہوتی ہے ۔

میں اکثر خود کلامی کرتا ہوں ۔ اس خود کلامی کی نتیجے میں بہت سےاحساسات و خیالات ، شعوری گرفت میں آجاتے ہیں اور بہت سے کسی چکنی مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل بھی جاتے ہیں ۔ جب کوئی ایک احساس اپنی تشکیل کا سفر بخوبی جب طے کرلیتا ہے تو مجھے کاغذ پر کچھ لکھنے یا کینوس پر رنگوں کا توازن رکھنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔ خودکلامی کے عمل سے وجود میں آنے والے الفاظ یا کینوس پر بکھرے ہوئے رنگ کسی احساس کا پیکر بن جائیں تو کیا مضائقہ ہے ۔آخر احساسات زندگی کا دوسرا نام بھی تو ہیں ۔

4 تبصرے
taintedsong.com taintedsong.com taintedsong.com